بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

نذرکی رقم مسجد کی تعمیر میں خرچ کرنا


سوال

ایک شخص نے نذر مانی کہ اگر اللہ تعالی نے اسے بیٹا دے دیا تو اتنی رقم اللہ تعالی کے نام پر دےگا ۔بیٹا پیدا ہونے کے بعد اب مذکورہ رقم مسجد کی تعمیر میں دینا چاہتا ہے،کیا نذر کی رقم مسجد کی تعمیر میں خرچ کرنا جائز ہے؟

جواب

              واضح رہےکہ نذر کی رقم صدقات واجبہ میں سے ہے اور ان  میں بنیادی شرط تملیک  کی ہے،یعنی کسی مستحق زکوۃفقیرکونذر کی رقم کا مالک بنانا ضروری ہےچونکہ مسجد میں خرچ کرنے سے تملیک کی شرط پوری نہیں ہوتی،اس لیے نذر کی رقم  بغیر تملیک کےمسجد کی تعمیر میں خرچ کرنا جائز نہیں بلکہ فقرا اورغربا کی ملکیت میں دینے سے نذر کی ادائیگی درست ہو جائے گی۔البتہ اگر کوئی مستحق زکوۃ فقیر نذر کی رقم کا مالک بنےپھروہ اپنی رضامندی سےوہ رقم مسجد کی تعمیرمیں خرچ کرنا چاہےتوخرچ کرسکتاہے۔

 

(أي مصرف الزكاة والعشر ) وهو مصرف أيضا لصدقة الفطر والكفارة والنذر وغير ذلك من الصدقات الواجبة۔ (ردالمحتارعلی الدرالمختار،کتاب الزکوۃ،باب المصرف،ج:3،ص:283)


فتویٰ نمبر : 9220/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں