بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

گزشتہ سالوں کےعشر کا حکم


سوال

اگر کسی زمیندار نےگزشتہ کئی سالوں سےعشر ادا نہیں کیا ہو،لیکن اب اس کو وہ مقدار معلوم نہیں تو ایسی صورت میں اس شخص سے عشر ساقط ہوگایانہیں؟

جواب

            واضح رہےکہ زکوۃ وعشراوردیگرمالی عبادات جب ایک دفعہ کسی کے ذمہ واجب ہوجائیں اور وہ ان کی بروقت ادائیگی نہ کرے تو وہ اس شخص کے ذمہ بدستور باقی رہتی ہیں،لہذا جب تک ان کی ادائیگی نہ کرے  وہ اس کے ذمہ سے ساقط نہیں ہوتا۔

            صورت مسئولہ میں جب زمیندار پر ایک دفعہ عشر کی ادائیگی واجب ہوگئی ہو تو جب تک اس کو ادا نہیں کرے گا،اس کا ذمہ فارغ نہیں ہوگا،تاہم اگر مذکورہ  زمیندار کو یقینی طور پرگزشتہ سالوں میں اُگی ہوئی فصل کی مقدار معلوم نہ ہوتو احتیاط اور غالب گمان کے مطابق حساب کرکےعشر کی ادائیگی کر سکتا ہے۔

 

وإن أكل صاحب المال من الثمر أو أطعم غيره يضمن عشره ويكون دينا في ذمته۔ (بدائع الصنائع،كتاب الزكوة،فصل في وقت الوجوب،ج:2،ص:518)

والظن الطرف الراجح وهو ترجيح جهة الصواب والوهم رجحان جهة الخطأ وأما أكبر الرأي وغالب الظن فهو الطرف الراجح إذا أخذ به القلب ، وهو المعتبر عند الفقهاءوغالب الظن عندهم ملحق باليقين ، وهو الذي يبتنى عليه الأحكام۔ (الأشباه والنظائرلإبن نجيم،الفائدة الثانية،ج:1،ص:73)


فتویٰ نمبر : 9214/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں