بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

گھر کےلیے حصول برکت کی خاطرتعویذ لکھوانا


سوال

ایک شخص گھرکے لیےحصول برکت کے لیےکسی بزرگ سے تعویذلکھوانا چاہتا ہے۔شریعت کا اس کے متعلق کیا حکم ہے؟

جواب

            شرعی نقطہ نظر سےکسی جائز کام کےلیےتعویذلکھنایالکھواناجائز ہے،البتہ تعویذ کو بالذات مؤثر نہ سمجھا جائے بلکہ مؤثر حقیقی اللہ تعالی ہی کو مانا جائے۔تاہم تعویذ میں اس بات کا لحاظ رکھناضروری ہےکہ تعویذ میں عربی زبان کے ماثور اوریا درست معنی پر مشتمل کلمات لکھے جائیں،مبہم کلمات  یادوسرے ایسے کلمات سے اجتناب کیا جائے جو فاسد عقیدہ کی ترجمانی کرتے ہوں یا ان کے ذریعے سے جنات یا شیاطین سے ناجائز مدد لی جاتی ہو۔

            صورت مسئولہ میں گھر کی خیروبرکت  کےلیے مذکورہ شرائط کے ساتھ تعویذ لکھوانے کی گنجائش ہے۔

 

قالوا وإنما تكره العوذة إذا كانت لغير لسان العرب ولا يدري ما هو ولعله يدخله سحر أو كفر أو غير ذلك وأما ما كان من القرآن أو شيء من الدعوات فلا بأس به۔ (ردالمحتارعلی الدرالمختار،کتاب الحظروالإباحة،فصل في اللبس،ج:9،ص:523)


فتویٰ نمبر : 5062/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں