بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

گھربنانے کی نیت سے سونا رکھ کرزکٰوۃ کا حکم


سوال

اگر کوئی  شخص  نصاب کے برابر سونا  خرید کر اس نیت سے اپنے پاس رکھے کہ جب دو تین سال بعد اس کی قیمت بڑھ جائے گی تو  فروخت کر کے اس سے  اپنا گھر بنائے گا تو کیا سال گزرنے سے  اس سونے پر زکٰوۃ واجب ہوگی یا نہیں؟

جواب

           واضح رہے کہ سونے میں چونکہ قدرتی طور پر ثمنیت اور بڑھوتری کا تصور پایا جاتا ہے چاہے جس نیت سے بھی رکھا گیا ہو،اس لیے شرعی نقطہ نظرسےسونا جب نصاب تک پہنچ جائےتو سال گزرنے سے اس پر زکٰوۃ واجب ہوتی ہے۔

          صورت مسئولہ کے مطابق  جب سائل کے پاس موجود سونا نصاب کو پہنچتا ہے تو سال گزرنے سے اس پر زکٰوۃ واجب ہوگی اگر چہ اس نے گھر بنانے کی نیت سے خرید کر اپنے پاس رکھا ہو۔

 

وأما صفة هذا النصاب فنقول: لا يعتبر في هذا النصاب صفة زائدة على كونه فضة فتجب الزكاة فيها سواء كانت دراهم مضروبة، أو نقرة، أو تبرا، أو حليا مصوغا، أو حلية سيف، أو منطقة أو لجام أو سرج أو الكواكب في المصاحف والأواني، وغيرها إذا كانت تخلص عند الإذابة إذا بلغت مائتي درهم، وسواء كان يمسكها للتجارة، أو للنفقة، أو للتجمل، أو لم ينو شيئا.(بدائع الصنائع،فصل صفة نصاب الزكاة في الفضة،ج:2،ص:16)

(وشرطه) أي شرط افتراض أدائها (حولان الحول) وهو في ملكه (وثمنية المال كالدراهم والدنانير) لتعينهما للتجارة بأصل الخلقة فتلزم الزكاة كيفما أمسكهما ولو للنفقة.(الدر المختار على صدر رد المحتار،كتاب الزكاة،ج:2،ص:267)     


فتویٰ نمبر : 9221/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں