بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

قبلہ کی طرف بنے ہوئے واش روم کا استعمال


سوال

ایک شخص نے تین منزلہ گھر بنایا ہے  اور اس   میں دس چھوٹے چھوٹے واش روم بھی بنائے ہیں لیکن مسئلہ  یہ ہے کہ واش روم کو استعمال کرتے وقت پشت قبلہ کی طرف ہوتی ہے چونکہ یہ سارے واش روم نقشہ کے مطابق بنے ہیں  اب اگر اس کو توڑ کر نئے واش روم شمالا جنوبا بناتے ہیں تو اس میں  حرج بہت زیادہ ہے اور اس صورت میں شاور کا پانی سیدھا فلش پر گرے  گا تو کیا شرعا اس میں کوئی گنجائش ہے کہ واش روم کو اپنی جگہ برقرار رکھ سکے؟

جواب

             کعبۃ اللہ دنیا کی سطح پر اللہ تعالی کے نزدیک افضل ترین  مقام ہے، جس کا احترام رکھنا اور ہر قسم کی بے ادبی سے بچنا مسلمانوں پر لازم ہے، اور کسی چیز کی جانب پیشاب کرنا چونکہ اس چیز کی بے ادبی شمار ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ احادیث مبارکہ میں بیت اللہ کی جانب پیشاب کرنے سے ممانعت آئی ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ کے ارشاد مبارک کا مفہوم ہے: جب تم بیت الخلا آؤ تو چھوٹے اور بڑے استنجا میں قبلہ کی طرف نہ منہ کرو اور نہ پیٹھ ۔ اسی طرح ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم شام گئے تو وہاں پر بیت الخلا قبلہ کی جانب بنے ہوئے تھے، تو ہم تکلف کے ساتھ گھوم کر بیٹھتے  تھے، یعنی حتی الامکان قبلہ کی جانب منہ یا پیٹھ کرنے سے بچنے کی کوشش کرتے، اور استغفار کرتے۔

          لہذا صورت مسئولہ کے مطابق  جب تک یہ ممکن ہوکہ یہ واش روم توڑ کر نئے واش روم بنائیں جا سکیں تو ان  کو توڑ کر شرعی تعلیمات کے مطابق نئے واش روم بنائیں جائیں لیکن اگر یہ ممکن نہ ہو تو اسی بیت الخلاء میں  جتنا ہو سکے گھوم کر اس طرح بیٹھاکرے کہ پشت قبلہ کی طرف نہ رہے۔

 

عن أبي أيوب الأنصاري، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا أتيتم الغائط فلا تستقبلوا القبلة بغائط ولا بول، ولا تستدبروها، ولكن شرقوا أو غربوا» قال أبو أيوب: فقدمنا الشام فوجدنا مراحيض قد بنيت مستقبل القبلة، فننحرف عنها، ونستغفر الله.(سنن الترمذي،ابواب الطهارة،باب في لنبي عن استقبال القبلة بغائط أو بول،رقم الحديث:8،ج:1،ص:13)

(كما كره) تحريما (استقبال قبلة واستدبارها ) لأجل (بول أو غائط) .(الدر المختار على صدر رد المحتار،كتاب الطهارة،فصل  الإستنجاء،ج:1،ص:341)


فتویٰ نمبر : 5059/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں