بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مصالحت کرنے پرثالث کا فریقین سے پیسے لینا


سوال

اگرفریقین کے درمیان کسی گھر یا  زمین  پر تنازع ہو، تو ان میں اگر کوئی ثالث فیصلہ/مصالحت کرلے اور اس کو اس فیصلہ  کے بدلے پیسے دیے جائیں،تو ثالث کے لیے یہ پیسےلینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

           دو فریقین کے درمیان کسی تنازع کا فیصلہ کرنے والے کو ثالت  کہتے ہیں،  ثالث کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ مصالحت پر اجرت نہ لے، البتہ متاخرین احنافؒ نے قضا کی طرح  تحکیم/مصالحت پر بھی اجرت لینے کو جائز قرار دیا ہے، البتہ اجرت میں درجہ ذیل شرائط کا پانا  ضروری ہیں:

  • ثالث میں مطلوبہ فیصلہ/مصالحت کی اہلیت  موجود ہو۔
  • فیصلہ/مصالحت شرعی اصول سے متصادم نہ ہو۔
  • ثالث کے لیے بیت المال (حکومت وقت) یا عوام کی طرف سے کوئی وظیفہ یا تنخواہ مقرر نہ ہو،۔
  • ثالث بنانے سے پہلےاس کی اجرت متعین کی گئی ہو۔

        لہذا صورت مسئولہ  میں اگر ثالث یا مصالح کو درجہ بالا شرائط کے ساتھ مصالحت کی اجرت ملی ہو،تو اس کے لیےیہ پیسے لینا جائز ہے۔

 

قال ابن العربی؛ الصحیح جواز أخذ الأجرۃ علی  الأزان و الصلوۃ و القضاء وجمیع  الأعمال الدنية۔( الشوکانی، محمد بن علی بن محمد، نیل الاوطار، کتاب  الصلوۃ، باب نھی   عن اخذ الاجرۃ علی الاذان ، ج2،ص60)


فتویٰ نمبر : 6453/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں