بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

زندگی میں بیٹیوں کو سونا دے کر میراث سے محروم کرنا


سوال

اگر کوئی شخص زندگی میں اپنی چار بیٹیوں کو دو دو تولے سونا دے کران سے کہے کہ میراث میں آپ کا حصہ نہیں ہوگا، اور بیٹیاں باپ کی زندگی میں اس پر قبضہ بھی کریں، اب سوال یہ ہے کہ کیا شرعاً ان بیٹیوں کو میراث میں حصہ ملے گا یا نہیں؟

جواب

           واضح رہے کہ شریعت نے ہر وارث کے لیے اپنا حصہ مقرر کیا ہے جو مرنے والے کی موت کے بعد اس کے زندہ ورثا کو دیا جاتا ہے تاہم اگر کوئی شخص زندگی میں اپنی خوشی اور رضامندی سے مملوکہ مال وجائیداد میں سے اولاد کو دینا چاہے توہبہ کرسکتا ہے البتہ ہبہ کے تام ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ جو چیز ہبہ کی جائے اس پر قبضہ اور تصرف کا مکمل اختیار بھی دیا جائے کیونکہ قبضہ کے بغیر ہبہ پورا نہیں ہوتا۔

            صورت مسؤلہ میں اگر والد نےزندگی میں بیٹیوں کو سونا دے قبضہ بھی دیا ہو تو شرعاً اس سونے پر بیٹیوں کی ملکیت ہوگی،اور اس میں میراث کے احکام جاری نہیں ہونگے،البتہ جو جائیداد مرحوم نے اپنی زندگی میں اپنی ملکیت میں  چھوڑی ہو اور موت کے بعداپنے بیٹوں کو دینے کا کہاہو تو ازروئے شریعت چونکہ وارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں ۔لہذا اس جائیداد میں بیٹیاں بھی دوسرے ورثا کے ساتھ اپنے حصہ کے بقدر حقدار ہوں گی۔

 

( ولا تجوز لوارثه )لقوله عليه الصلاة والسلام إن الله تعالى أعطى كل ذي حق حقه ألا لا وصية لوارث۔(الهداية،كتاب الوصايا، ج:4، ص:639)

  وَلَوْ وَهَبَ رَجُلٌ شيئا لِأَوْلَادِهِ في الصِّحَّةِ وَأَرَادَ تَفْضِيلَ الْبَعْضِ على الْبَعْضِ في ذلك لَا رِوَايَةَ لِهَذَا في الْأَصْلِ عن أَصْحَابِنَا ...عن أبي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ إذَا لم يَقْصِدْ بِهِ الْإِضْرَارَ وَإِنْ قَصَدَ بِهِ الْإِضْرَارَ سَوَّى بَيْنَهُمْ يُعْطِي الِابْنَةَ مِثْلَ ما يُعْطِي لِلِابْنِ وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى.(الفتاوى الهندية،الباب السادس فى الهبة، ج:4، ص:437)


فتویٰ نمبر : 5057/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں