بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

نماز میں ایک آیت یاایک سے زیادہ آیتوں کا سہواً چھوٹ جانا


سوال

 نماز کی ایک رکعت میں  ایک ہی سورت میں آیت یااس سے زیادہ  قرات سہواً رہ جائے تو یہ نماز درست ہوگی یا نہیں؟

جواب

            شرعی نقطہ  نظر سے نماز میں اگرایک آیت یااس سے زیادہ آیتیں سہواً چھوٹ جائےاوراس سےمعنی میں ایسا تغیر پیدا نہ ہوا ہوجس سے نمازفاسد ہوجاتی ہے تو ایسی صورت میں نماز درست ہوتی ہے اور اگر ایساتغیر پیدا ہوجائے جس سے معنی متغیر ہو جائے تو پھر نماز فاسد ہوجاتی ہے۔

           صورت مسئولہ کے مطابق اگرایک آیت یااس سے زیادہ آیتیں سہواً چھوٹ چکے ہوں لیکن ان کی وجہ سےمعنی میں  کوئی ایسا تغیر پیدا نہ ہوا ہوجس سے نمازفاسد ہوجاتی ہے تو ایسی صورت میں یہ نماز جاتی ہے۔

 

يكره أن يفتح من ساعته كما يكره للإمام أن يلجئه إليه، بل ينتقل إلى آية أخرى لا يلزم من وصلها ما يفسد الصلاة أو إلى سورة أخرى أو يركع إذا قرأ قدر الفرض كما جزم به الزيلعي۔(الدرالمختار علی صدر ردالمحتار،فروع سمع المصلي اسم الله تعالي فقال جل، ج:1، ص:623)

ولو زاد كلمة أو نقص كلمة أو نقص حرفا، أو قدمه أو بدله بآخر۔۔۔ لم تفسد ما لم يتغير المعنى۔(ردالمحتار،فروع مشي المصلي مستقبل القبلةهل تفسد، ج:1،ص:632)


فتویٰ نمبر : 9217/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں