بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

تعویذکے جواز کا شرعی ثبوت


سوال

دم جھاڑ پھونک کا جواز تو آپﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے کیا تعویذ کا جواز بھی آپﷺ یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے یا نہیں  اور اگر ثابت نہیں تو تعویذکرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

            شریعت مطہرہ کی رو سے دم  کرنے کا جوازآپﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے البتہ تعویذکا جواز صحابہ کرام ؓ کے عمل سے ثابت ہے ،  سنن ابی  داود   میں حضرت عبدالله بن عمر كا عمل مذ کورہے کہ وہ  مخصوص کلمات بچوں کو بطور علاج سکھاتے تھے اگر کوئی سیکھنے سے قاصر ہوتا تو  لکھ کر اس کےگلے میں لٹکادیتے۔تاہم   تعویذکےجواز کے لیےیہ ضروری ہے کہ تعویذ میں شرکیہ الفاظ نہ ہوں ، معنی درست ہو،اوراسے مؤثر حقیقی نہ مانا جائے۔

 

عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يعلمهم من الفزع كلمات: «أعوذ بكلمات الله التامة، من غضبه وشر عباده، ومن همزات الشياطين وأن يحضرون» وكان عبد الله بن عمر يعلمهن من عقل من بنيه، ومن لم يعقل كتبه فأعلقه عليه۔(سنن أبي داود، باب كيف الرقي،رقم الحديث: 3893،ج:4، ص:12)

(ومن لن يعقل) أي لم يبلغ درجة العقل والحفظ(كتبه) في صك(فأعلقه عليه) أي علقه في عنقه فيه دليل علی جواز كتابة التعاويذ والرقی وتعليقها۔(بذل المجهودشرح سنن أبی داود،كتاب الطب ، باب ما جاء في الرقي، ج:16، ص:223)

وقد أجمع العلماء على جواز الرقى عند اجتماع ثلاثة شروط أن يكون بكلام الله تعالى أو بأسمائه وصفاته وباللسان العربي أو بما يعرف معناه من غيره وأن يعتقد أن الرقية لا تؤثر بذاتها بل بذات الله تعالى۔ (فتح الباري، كتاب الطب، باب الرقی بالقرآن:رقم الحديث:5735، ج:11، ص:352)


فتویٰ نمبر : 5084/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں