بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

جیب کی سلائی رہ جانے سے گاہک کے گم شدہ پیسوں کا تاوان


سوال

 اگر درزی سے جیب کی سلائی رہ گئی ہو اور گاہک کو معلوم نہ ہو جس کی وجہ سے گاہک کے پیسے وغیرہ جیب سے گرجائیں تو کیا درزی پر گاہک کے پیسوں وغیرہ کا تاوان لازم ہوگا یا نہیں؟

جواب

             فقہا کے بیان کردہ قواعد کی روشنی میں جب  کسی کام میں مباشر اور مسبب دونوں جمع ہوجائیں تو فعل کی نسبت مباشر کی طرف کی جائے گی نہ کہ مسبب کی طرف  یعنی مسبب کی بجائے تاوان خود مباشر پر لازم ہوگا۔

                صورت مسئولہ میں درزی سے اگرچہ سلائی میں کمی آگئی ہے اس لیے اس پر سلائی کی نقصان کا تاوان آئےگا۔ جہاں تک جیب سے پیسے گرنے کا تعلق ہے تو اس کی ذمہ داری اس پر عائد نہیں ہوتی کیوں کہ پیسہ جیب میں رکھنا اور اس کی حفاظت کرنا کپڑے کے مالک کی ذمہ داری ہے ۔ اگر چہ سلائی میں غلطی ایک سبب کا درجہ رکھتی ہے لیکن پیسے گم کرنے کا  فعل درزی سے سرزد نہیں ہوا بلکہ پیسے رکھنے والے سے سرزد ہوا ہے اس لیے پیسے گم ہونے کا تاوان درزی پر نہیں آتا۔

 

یشترط شیئان: التعمد والتعدی لأن یکون التسبب موجباً للضمان علی ما ذکر آنفاً فی المادتین، یعنی ضمان المتسبب فی الضرر الناشیئ عن تسببه مشروط بعمله فعلاً مفضیاً إلی ذلك الضرر عمداً وبغیر حق، أی إذا کان قد استعمله عمداً وتعدیاً کان ضامناً. (درر الحكام شرح مجلة الأحكام، ج:2، ص:617، المادة:924)


فتویٰ نمبر : 3051/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں