بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

حجرہ میں نماز کے لیے مختص جگہ کا حکم


سوال

قبائلی معاشرے میں حجروں  کے اندر مساجد ہوتے ہیں اور وہ مساجد حجروں کے تابع ہوتے ہیں اس طور پر کہ ان کے لیے الگ سے دروازے نہیں ہوتے۔ان مساجد میں دوسرے محلے کے لوگ نماز پڑھنے کے لیے آسکتے ہیں لیکن جب حجروں کو تالے لگائے جاتے ہیں تو مساجد بھی بند ہوجاتے ہیں  گویا اذنِ عام  مسجد میں آنے کے اعتبار سے ہے لیکن  تالے لگانے سے اذنِ عام نہ ہونامعلوم ہوتا ہے۔ کیا ایسے مساجد شرعی مساجد شمار ہوں گےیا محض مصلی کے حکم میں ہوں گے۔ نیز ایسی مساجد میں اعتکاف اور جماعتِ ثانیہ کا کیا حکم ہے؟

جواب

             فقہا کرام کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی شخص نے اپنی مملوکہ زمین میں لوگوں کو یہ کہہ کر نماز کی اجازت  دی کہ تم ہمیشہ کے لیے اس میں نماز پڑھویا مطلق نماز کی اجازت دی لیکن اس کی  نیت ہمیشہ کی اجازت کی تھی تو ان دونوں صورتوں میں وہ جگہ مسجد شرعی  کے حکم میں ہوگی،البتہ اگر اس نے کہا کہ کچھ مخصوص  مدت کے لیے اس جگہ میں نماز پڑھنےکی اجازت دی ہو تو ایسی صورت میں وہ جگہ مسجد شرعی کے حکم میں نہیں ہوتی۔

                صورت مسئولہ  میں اگر مالكِ زمین نے حجره میں ہمیشگی کی نیت کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے وقف مسجد بنائی ہو تو یہ مسجد، مسجد شرعی کے حکم میں ہوگی۔ جس میں مردوں کا  مسنون اعتکاف جائز اور محلے والوں کے لیے ہیئت اولیٰ کے ساتھ  جماعت ثانیہ مکروہ ہوگی۔ تاہم اگر مالکِ زمین نے محض سہولت کی خاطر مخصوص لوگوں کے لیے نماز کی جگہ کے طور پر خاص کیا ہو اور اسے باقاعدہ نماز کے لیے  وقف نہ کیا ہو تو یہ مسجدِ شرعی کےحکم میں نہیں ہوگی لہذا مردوں کے لیے ایسی جگہ میں مسنون اعتکاف ناجائز اورمحلے والوں کے لیے  جماعت ثانیہ جائز رہے گی۔

 

(ویزول ملكه عن المسجد والمصلى) بالفعل و(بقوله جعلته مسجدًا)...وفي القهستاني ولابد من إفرازه أي تمییزه عن ملكه من جمیع الوجوه فلو کان العلو مسجدًا والسفل حوانیت أو بالعکس لا یزول ملكه لتعلق حق العبد به (ردالمحتار مع الدرالمختار، كتاب الوقف، مطلب سكن دارا ثم ظهر أنها وقف، ج:3، ص:355)

رجل له ساحة لا بناء فيها أمر قوما أن يصلون فيها بجماعة فهذا على ثلاثة أوجه: أحدها إما أن أمرهم بالصلاة فيها أبدا نصا، بأن قال: صلوا فيها أبدا. أو أمرهم بالصلاة مطلقا ونوى الأبد. ففي هذين الوجهين صارت الساحة مسجدا لو مات لا يورث عنه، وإما أن وقت الأمر باليوم أو الشهر أو السنة. ففي هذا الوجه لا تصير الساحة مسجدا لو مات يورث عنه. (الفتاوى الهندية،  كتاب الوقف، الباب الحادي عشر في المسجد وما يتعلق بها، ج:2، ص:409)

ويكره تكرار الجماعة بأذان وإقامة في مسجد محلة. (ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الصلوة، باب الإمامة، ج:1، ص:552)


فتویٰ نمبر : 5055/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں