بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مسجد کی کھڑکی سے قبر نظر آنے کی صورت میں نماز کا حکم


سوال

 ہماری مسجد میں پہلی صف کے ایک طرف کھڑکی ہے جس سے سامنے قبر نظر آتی ہے، درمیان میں کچھ فاصلہ ہے۔ گرمیوں میں جب کھڑکی کھلی ہوتی ہے تو اس طرف کھڑے ہونے والے نمازیوں کے سامنے قبر ہوتی ہے۔ اس سے نماز پر کوئی اثر پڑھتا ہے یا نہیں؟

جواب

             واضح رہے کہ اگر نمازی اور قبر کے درمیان حائل ہو یا قبرمسجد کے ایک طرف ہوں تو پھر نماز پڑھنے میں کراہت نہیں ہے، اور اگر نماز پڑھتے وقت سامنے قبر ہو اور درمیان میں کوئی حائل یا سترۃ وغیرہ نہ ہو تو ایسے نماز پڑھنا مکروہ ہے۔

            صورت مسؤلہ میں چونکہ مسجد میں کھڑے ہونے والے نمازیوں اور قبر کے درمیان کھڑکی اور دیوار حائل موجود ہے، لہذا اس سے نماز پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

 

وتكلموا أيضا في معنى الكراهة إلى القبر قال بعضهم: لأن فيه تشبها باليهود، وقال بعضهم: لأن في المقبرة عظام الموتى وعظام الموتى أنجاس وأرجاس، وهذا كله إذا لم يكن بين المصلي وبين هذه المواضع حائط أو سترة، أما إذا كان لا يكره ويصير الحائط فاصلا۔(الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، الباب الخامس في آداب المسجد والقبلة، ج:5، ص:395)


فتویٰ نمبر : 9209/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں