بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

ميت كو چھونے سے دوباره غسل كا حكم


سوال

ہمارے علاقے  میں یہ بات مشہور ہے کہ میت  کو غسل دینےکے بعد اگر چھو لیا جائے تو اس کو دوبارہ غسل  ديا جائے گا،كيا یہ بات صحيح  ہے؟شرعی رہنمائی فرمائیں ۔

جواب

          واضح رہے کہ شرعا ًمیت کا غسل فرض ہےاور خودمیت اس سے معذور ہے اس لیے شریعت نے یہ ذمہ داری مسلمانوں پر ڈالی ہےنیز فرض ایک بار غسل دینے سے ادا ہو جاتا ہے اس لیے دوبارہ غسل دینے کی ضرورت نہیں ۔ 

            لہذا صورت مسؤلہ کے  مطابق  اگر میت  کو ایک مرتبہ غسل دے  دیا جائے تو  غسل دینےکے بعد اگر  کوئی اس کو چھولے تو اس سے دوبارہ غسل دینا لازم نہیں ہوتا لہذا ازروئے شرع مردہ چھونے سے دوبارہ غسل دینے کی بات ٹھیک نہیں ۔

 

غسل الميت حق واجب على الأحياء بالسنة واجماع الأمة۔۔۔۔۔ فإن خرج منه شيء غسله ولا يعيد غسله۔(الفتاوى الهندية،كتاب الصلوة، الفصل الثاني في غسل الميت،ج:1،ص:158)


فتویٰ نمبر : 9208/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں