بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

غیر مسلموں کا پیسہ مسجد کی تعمیر میں خرچ کرنا


سوال

غیر مسلم،ہندو،یہودی  وغیرہ اگر مسجد کی تعمیر کے لیے یا مسجد میں ٹینکی وغیرہ لگوانے کے لیے فنڈ دینا چاہیں تو کیا ان سے یہ فنڈ لینا اور مسجد میں لگانا جائز ہوگا یا نہیں؟

جواب

           واضح رہے کہ اگرغیر مسلم مسجد یا کسی دینی ادارے  کی تعمیر کے لیے  پیسے دے کر اپنی عقیدے کے مطابق  اچھا کام سمجھ کر بعد میں ان پیسوں  کے بدلے میں کسی غلط مقصد حاصل  کرنےمثلا بعد میں مسلمانوں کو ان کی عبادت گاہوں پر پیسہ خرچ کرنےپرمجبور کرنےیامسلمانوں پر احسان  جتلانے کا اندیشہ نہ ہو تو اس صورت میں غیر مسلموں کا پیسہ مسجد اور دیگر دینی اداروں میں استعمال کرنا شرعا جائزہے۔

           صورت مسؤلہ کے مطابق اگرکوئی غیر مسلم مسجد کی تعمیر یا مسجد میں ٹینکی وغیرہ لگوانے کے لیے فنڈ دے دے اور ان پیسوں کے بدلے میں کسی غلط  مقصد حاصل کرنے کا اندیشہ نہ ہو،تو اس صورت میں یہ  پیسہ مسجد کی تعمیر میں خرچ کیا جا سکتا ہے۔

 

شرط وقف الذمي أن يكون قربة عندنا وعندهم كالوقف على الفقراء أوعلى مسجد القدس۔(ردالمحتار،كتاب الوقف،مطلب قد يثبت الوقف بالضرورة،ج:6،ص:524)

وأما الإسلام فليس من شرطه فصح وقف الذمي بشرط كونه قربة عندنا وعنده۔ (البحرالرائق،كتاب الوقف،ج:5،ص:316)


فتویٰ نمبر : 5052/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں