بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

علاج سنٹرز میں نماز جمعہ پڑھنا


سوال

1۔موجودہ دور میں نشہ کرنے والے افراد کے لیےجو علاج سنٹرزقائم کیے گئےہیں ان میں زیر علاج افراد پرجمعہ کی نماز فرض  ہےیا نہیں؟  2:اگر زیر علاج افراددور کسی مسجد کے ساتھ جہاں سے جمعہ کی نماز کی آواز آرہی ہونماز پڑھ لےتو کیا یہ جائز ہےکیونکہ علاج سنٹر میں اکثر مسجد نہیں ہوتی۔

جواب

              1: نمازجمعہ کے لیےدرج ذیل شرائط کا پایا جاناضروری ہے:

(۱)عاقل ہونا(۲)بالغ ہونا(۳)آزاد ہونا(۴)مردہونا(۵) شہر یا بڑے گاؤں میں مقیم ہونا( حالت سفر میں نہ ہونا) (۶) صحت مند ہونا( کسی ایسی بیماری میں مبتلا نہ ہونا جس کی وجہ سے جمعہ کے لیے جانا دشوار ہو)۔(۷)کسی ظالم شخص یا بادشاہ کے خوف سے محفوظ ہونا(۸)آنکھوں اور ٹانگوں کا صحیح ہونا۔صورت مسئولہ میں اگرسنٹرمیں زیر علاج افرادمیں مذکورہ شرائط پائے جاتے ہوں تو ان پر جمعہ کی نما زواجب ہےورنہ نہیں۔

            2: مسجدسے باہر کسی جگہ سے مسجد میں ہونے والی نماز باجماعت میں امام کی اقتدا کے صحیح ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ باہر کی صفیں مسجد کی صفوں کے ساتھ ملی ہوئی ہوں اور مقتدی کوامام کے ارکان کا پتہ چلتا ہو۔

         صورتِ مسؤلہ کے مطابق علاج سنٹر سےکسی دور مسجد کے امام کی اقتدامیں نماز پڑھنا جائز نہیں ،اس سے نماز ادا نہ ہوگی،تاہم اگر مسجد جانے میں دشواری ہو تو ضرورت کے تحت سنٹر کے اندر ان کے لیے جمعہ کا انتظام کیا جائے۔

 

(وشرط لافتراضها) تسعة تختص بها (إقامة بمصر)۔۔۔(وصحة)،(وحرية)،(وذكورة) ،(وبلوغ وعقل)،(ووجود بصر)،(وقدرته على المشي)،(وعدم حبس و) عدم (خوف و) عدم (مطر شديد) ووحل وثلج ونحوهما (وفاقدها) أي هذه الشروط أو بعضها (إن) اختار العزيمة و (صلاها وهو مكلف) بالغ عاقل (وقعت فرضا) عن الوقت ۔(الدر المختار مع رد المحتار،كتاب الصلوٰۃ،باب الجمعۃ،3،ص:26-29)۔

والحائل لا يمنع ) الاقتداء ( إن لم يشتبه حال إمامه ) بسماع أو رؤية ولو من باب مشبك يمنع الوصول في الأصح ( ولم يختلف المكان ) حقيقة كمسجد وبيت في الأصح قنية ولا حكما عند اتصال الصفوف۔(الدر المختار ،كتاب الصلوة،باب الإمامة،ج2ص333)۔

ويمنع من الاقتداء) ۔۔۔ (طريق تجري فيه عجلة) آلة يجرها الثور۔۔۔ (أو خلاء) أي فضاء (في الصحراء) أو في مسجد كبير جدًّا كمسجد القدس (يسع صفين) فأكثر۔(الدر المختارعلی صدر رد المختار،کتاب الصلوٰۃ،باب الامامۃ،ج:2،ص:330)۔


فتویٰ نمبر : 9253/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں