بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

ایام حیض گزرنے کے باوجود خون کا جاری رہنا


سوال

اگر کسی خاتون کا حیض بند نہ ہو رہا ہو، تو وہ نماز کس طرح پڑھے؟

جواب

           واضح رہے کہ حیض و نفاس کے علاوہ جو خون عورت کی شرمگاہ سے آئے ،وہ استحاضہ کہلاتاہے ،اور استحاضہ کا حکم یہ  ہے کہ ان دنوں میں مستحاضہ ،نماز ،روزہ،تلاوت و دیگر تما م عبادات کرے گی اور ایسی خواتین جنہیں استحاضہ کا خون آتاہو وہ ہرنماز کے  وقت کے لیے وضو کرے گی ،اور اسی وقت کے ختم ہونے تک اس وضو سے نماز،تلاوت طواف وغیرہ کر سکتی ہیں، بشرطیکہ کوئی اور ناقض وضو  پیش نہ آئے، اور اگر مستحاضہ سے اس دوران نمازیں یا روزے قضاہو جائے تو اس کی قضا لازم ہے۔

           صورت مسئولہ کے مطابق دیکھا جائے گا کہ اس عورت کی حیض کے بارے میں کوئی عادت ہے، یا نہیں؟ اگر اس کی سابقہ کوئی عادت ہے، اوراسےعادت کے ایام سے زائد خون آئے تو وہ عورت فی الحال  نمازنہیں  پڑھے گی ، بلکہ انتظار کرے گی اگر خون دس دن سے زیادہ جاری رہا تو ایام عادت سے زائد ایام استحاضہ کے شمار ہوں گے اور ان دنوں کی نماز وں کی قضا لازم ہوگی، نیزاستحاضہ کے دنوں میں عورت روزے بھی رکھے گی، اور نماز بھی پڑھے گی، اگرچہ اس دوران خون جاری ہو۔اور اگر دس دن  یا اس سے پہلے خون رک گیا تو یہ تمام ایام حیض کے شمار ہوں گے۔

 

تتمة اختلفوا في المعتادة هل تترك الصلاة والصوم بمجرد رؤيتها الزيادة على العادة قيل لا لاحتمال الزيادة على العشرة وقيل نعم استصحابا للأصل وصححه في النهاية والفتح وغيرهما وكذا الحكم في النفاس۔(ردالمحتار، كتاب الطهارة، باب الحيض، ج:1، ص499)

وأما إذا زاد على عادتها المعروفة دون العشرة فقد اختلف فيه المشايخ فذهب أئمة بلخ إلى أنها تؤمر بالاغتسال والصلاة ؛ لأن حال الزيادة متردد بين الحيض والاستحاضة ؛ لأنه إن انقطع الدم قبل العشرة كان حيضا ، وإن جاوز العشرة كان استحاضة فلا تترك الصلاة مع التردد. وقال مشايخ بخارى : لا تؤمر بالاغتسال والصلاة ؛ لأنا عرفناها حائضا بيقين ، ودليل بقاء الحيض هو رؤية الدم قائم ولا يكون استحاضة حتى تستمر فيجاوز۔(العناية، كتاب الطهارة، باب الحيض والاستحاضة، ج:1، ص:150)

(ودم استحاضة) حكمه (كرعاف دائم) وقتا كاملا (لا يمنع صوما وصلاة) ولو نفلا (وجماعا) لحديث توضئي وصلي وإن قطر الدم على الحصير(ردالمحتار على الدرالمختار ،باب الحيض،ج:1،ص:298)


فتویٰ نمبر : 9205/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں