بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سنت اور مستحب میں فرق


سوال

سنت اور مستحب میں کیا فرق ہے؟

جواب

           فقہائے کرام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سنتوں کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے سنن ھدی اور سنن زوائد ۔

سنن ھدی وہ ہیں کہ جن پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبادت کی نیت سے ہمیشگی اختیار کی ہواور ان کے چھوڑنے سےعقاب لازم آتا ہوجس طرح نماز باجماعت، اذان وغیرہ۔اور سنن زوائد وہ ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سےعادت کے طور پر صادر ہوئے ہوں جیسا کہ اٹھنا بیٹھنا،لباس پہننا وغیرہ؛ان کے چھوڑنے سے کوئی عقاب وغیرہ لازم نہیں آتا۔

مستحب:وہ فعل ہے، جس کو جناب رسول اللہ ﷺ نے یا آپ کے صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین نے کیا ہو، یا اس کو اچھا خیال کیا ہو، یا تابعین نے اس کو اچھا سمجھا ہو، لیکن اس کو ہمیشہ یا اکثر نہ کیا ہو، بلکہ کبھی کیا ہو اور کبھی ترک کیا ہو، اس کا کرنا ثواب ہے اورنہ کرنا گناہ و موجبِ عذاب نہیں۔

سنت اور مستحب میں فرق یہ ہےکہ سنت پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مداومت اور ہمیشگی ثابت ہو اور  کبھی کبھار ترک بھی کیا ہوجبکہ مستحب وہ عمل ہےجس پر ہمیشگی اختیار نہ کی ہوبلکہ کبھی کبھار کیا ہو،یہی وجہ ہےکہ مستحب کادرجہ سنت سے کم ہے۔

 

والسنة ‌نوعان: سنة الهدي، وتركها يوجب إساءة وكراهية كالجماعة والأذان والإقامة ونحوها. وسنة الزوائد، وتركها لا يوجب ذلك كسير النبي-عليه الصلاة والسلام - في لباسه وقيامه وقعوده۔(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الطهارة، سنن الوضوء، ج:1، ص:103)

وهذا هو الفرق بين السنة، والأدب أن السنة ما، واظب عليه رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ولم يتركه إلا مرة، أو مرتين لمعنى من المعاني،، والأدب ما فعله مرة، أو مرتين، ولم يواظب عليه۔(بدائع الصنائع، كتاب الطهارة، فصل بيان ما ينقض الوضوء، ج:1، ص:24)

والمستحب وهو ما ورد به دليل ندب يخصه، كما في التحرير؛ فالنفل ما ورد به دليل ندب عموما أو خصوصا ولم يواظب عليه النبي - صلى الله عليه وسلم -؛ ولذا كان دون سنة الزوائد۔ (رد المحتار على الدر المختار، ‌‌كتاب الطهارة، سنن الوضوء، ج:1، ص:103)


فتویٰ نمبر : 9224/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں