بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

صلیب کے نشان والا یونیفارم پہننا


سوال

ایڈورڈز کالج پشاور کے لوگو(Logo) میں صلیب کا نشان پرنٹ ہے اور یہ لوگو ان کے یونیفارم(شرٹ، کورٹ، سویٹر، ٹائی) پر پرنٹڈ ہے، کیا ایسا یونیفارم پہننا صحیح ہے؟

جواب

            صلیب درحقیقیت عیسائیوں کے مذہبی شعائر میں سے ہے اور ازروئے شریعت کسی مسلمان کی شان نہیں کہ کوئی ایسا لباس استعمال کرے جس پر صلیب کا نشان ہو کیونکہ یہ عیسائیوں کے شعائر کی ترویج اور اشاعت کے مترادف ہے جو کہ تعاون علی الاثم کے زمرے میں آتا ہےنیزاس ميں اغيار كے ساتھ مشابہت بھی ہے۔ایک حدیث میں ہے کہ آپﷺ اپنے گھر میں ایسی کوئی چیز نہیں چھوڑتے تھے جس پر کہ صلیب بنی ہو۔

            صورت مسؤلہ میں ایسا یونیفارم  جس پر صلیب کا نشان پرنٹڈ ہو جائز نہیں ، لہذا اس سے اجتناب کیاجائے۔

 

قال الله تعالى: [ولا تعاونوا على الإثم والعدوان]۔(سورة المائدة:2)

عن عائشة رضي الله عنها، «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان لا يترك في بيته شيئا فيه تصليب إلا قضبه»۔(سنن أبی داؤد، باب فی الصلیب فی الثوب، رقم الحدیث:4151)

عن ابن عمر قال قال رسول الله صلی الله عليه و سلم "من تشبه بقوم ای من شبه نفسه بالکفار مثلا فی اللباس و غيره أو بالفساق أو الفجار أو بأهل التصوف والصلحاء الابرار" فهو منهم" ای فی الاثم و الخير.(مرقاة المفاتيح کتاب اللباس الفصل الثانی رقم الحديث :4347 ، 8/155)


فتویٰ نمبر : 5056/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں