بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

وکیل کا کفارہ کی رقم خود استعمال کرنا


سوال

 میری چچی وفات پا گئی اور میرے کزن/ چچا کے بیٹے نے مجھے یہ بتایا کہ میری امی سے اپنی آخری ایام میں کئی نمازیں قضاء ہو چکی ہیں، تو اِس کا کفارہ ادا کرنا چاہتا ہوں تو کیا کروں اور ہر نماز کا کتنا فدیہ ادا کروں؟ تو میں نے کفارہ کی رقم اور اُس کے مستحقین کا جواب تلاش کیا اور اُسے جواب دکھایا اور سنایا، تو پھر اُس نے مجھے کہا کہ ٹھیک ہے میں قضاء نمازوں کی معلومات کر کے کفارہ کی قیمت آپ کو دے دوں گا، باقی مستحقین کو آپ ہم سے اچھا جانتے ہیں، آپ جہاں مناسب سمجھیں وہاں استعمال کریں۔ محترم جناب چونکہ میں خود مدرسے کا فاضل ہوں اور میں خود بھی مستحق زکوۃ ہوں، تو میرے لئے اِن پیسوں کا خود لینا کیسا ہے اگر میں اِن سے کتابیں یا دیگر ضروری اشیاء لے لو ں تو کیسا ہوگا؟

جواب

           اگر وکیل کو اس شرط پر کفارہ کی رقم دی گئ ہو کہ اس کو مخصوص افرادیا مخصوص ادارے تک پہنچائے تو ایسی صورت میں کفارہ  کی رقم ذاتی طور پر خرچ کرنے سے کفارہ ادا نہیں ہوگا،اس صورت میں وکیل اس کا ضامن ہو گا ،لیکن اگر موکل نےمطلقا اختیار دیاہوکہ جہاں تومناسب سمجھے،یہ کفارہ خرچ کرو تو اسں طرح اجازت کےبعد اگر وکیل خود  مستحق  ہو تو کفارہ کی رقم خود استعمال کر سکتا ہے۔         

          لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگرواقعی موکل نے وکیل کو یہ کہا ہو کہ آپ جہاں مناسب سمجھیں  وہاں استعمال کریں  تو اگروکیل مستحق زکوۃ ہے تو وہ خود بھی کفارہ کا مال استعمال  کرسکتاہے۔

 

وللوكيل أن يدفع لولده الفقير،وزوجته لا لنفسه إلاإذا قال ربها ضعها حيث شئت۔(الدرالمختار على صدر ردالمحتار،كتاب الزكوة ج3ص189،188)


فتویٰ نمبر : 9172/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں