بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

زکوۃ کی رقم تنخواہ کی مد میں دینا


سوال

 کیا کسی مکتب کے معلم کو زکوۃ کے پیسوں سے تنخواہ دینا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

          زکوۃ کی ادائیگی کے صحیح ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ فقیر کو زکوۃ کے مال کا مالک بنا دیا جائےاور یہ مالک بنانا بغیر کسی عوض کے ہو۔

            لہذا صورت مسؤلہ میں کسی مکتب کے معلم کو زکوۃ کے پیسوں سے تنخواہ دینا جائز نہیں،ایسی صورت میں زکوۃ ادا نہ ہوگی،تاہم اگر مکتب کا معلم مستحق زکوۃ ہو ،تو تنخواہ کے علاوہ زکوۃ کی مد میں اس کے ساتھ تعاون کیا جاسکتا ہے۔

 

فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله۔(الفتاوى الهندية:كتاب الزكوة،الباب الاول:في تفسيرها۔۔۔۔ج:1،ص:232)


فتویٰ نمبر : 9237/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں