بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

مسجد کی رقم کرنٹ اکاونٹ میں رکھنے کا حکم


سوال

ایک مسجد کی انتظامیہ مسجد کی خدمت  کرتے ہیں وہ اس  مسجد کے حساب کتاب کی حفاظت کی خاطر بینک میں کھاتہ کھلواتاہے جس میں مسجد کی رقم جمع کی جاتی ہے اور بوقت ضرورت  اکاونٹ سے نکال کر حاصل کی جاتی ہے، لہذا مسجد کی انتظامیہ کا مسجد کی رقم کو بینک میں کرنٹ  اکاونٹ کے اندرجمع کرنا  شرعا  جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

             شرعی نقطہ نظر سے متولی یا مسجد کے انتظامیہ کے ہاتھ میں مسجد کا چندہ امانت کی حیثیت رکھتا ہے جس کو مسجد کے مصالح میں  خرچ کرنا ضروری ہےاور اگر کچھ رقم فی الحال مسجد کے مصالح میں خرچ ہونے سے بچ جائے تو اس کی حفاظت متولی یا مسجد کے انتظامیہ والوں کی ذمہ داری ہے ۔

          صورت مسئولہ کے مطابق  اگر مسجد کی انتظامیہ والےان رقوم کی حفاظت بینک کے اکاونٹ کے بغیر نہ کر سکتے ہوں تو حفاظت کی غرض سے یہ رقوم بینک میں کرنٹ اکاونٹ کے اندررکھنے کی گنجائش ہے۔

 

وذكر أن القيم لو أقرض مال المسجد ليأخذه عند الحاجة وهو أحرز من إمساكه فلا بأس به(البحرالرئق،كتاب الوقف،ج:5،ص:401)


فتویٰ نمبر : 5054/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں