بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

عورت کا بہن اور بہنوئی کے ساتھ حج پرجانا


سوال

 ایک عورت نے اپنے خاوند کے ساتھ حج  جانے کا ارادہ کیا ہے اور  اس عورت کی ایک جوان بہن ہےیہ عورت چاہتی ہے کہ میرے ساتھ میری  بہن  بھی حج ادا کرنے کے لیے جائے ،  تو کیا اس کی بہن کے لیے ،اپنی بہن اور بہنوئی کے ساتھ حج پر جانا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

             شرعی نقطہ نظر سے اگر سفر، شرعی سفر کی مسافت  کے بقدر ہوتو ایسی صورت میں عورت کے لیے محرم(شوہر یا جس کے ساتھ ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہو،خواہ حرمت بسبب قرابت ہویا رضاعت ہویامصاہرت ہو) کے بغیر حج پر جانا جائز نہیں۔

            صورت مسؤلہ کے مطابق مذکورہ عورت  کا اپنےبہنوئی کے ساتھ حج پرجانا جائز نہیں ہے،اس ليے کہ  بہنوئی  سالی  کا محرم نہیں ۔

 

(ومنها المحرم للمرأة) شابة كانت أو عجوزاإذا كانت بينها وبين مكة مسيرة ثلاثة أيام هكذا في المحيط، وإن كان أقل من ذلك حجت بغير محرم كذا في البدائع والمحرم الزوج، ومن لا يجوز مناكحتها على التأبيد بقرابة أو رضاع أو مصاهرة۔ (الفتاوی الهندية، الباب الأول في تفسير الحج وفريضته ووقته، ج:1، ص:218)


فتویٰ نمبر : 9197/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں