بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

اپنے آپ کو میڈیکل انفٹ لکھ کر پینشن وصول کرنا


سوال

میں ایک سکول کا چوکیدار تھا اس وقت میں علم حاصل کررہاتھا ڈپٹی میری جگہ میرا چھوٹا بھائی احسن طریقے سے یعنی ایمانداری سے سرانجام دیتاتھا،تقریبا بیس فیصد ڈپٹی میں نے کی ہیں اور اسی فیصد ڈپٹی میرے بھائی نے کی ہیں ،جب گیارہ سال پورے ہوئے تو میں نے اپنی جان میڈیکل انفٹ لکھ کرڈپٹی سے نکل گیا حالانکہ میں صحیح سالم ہوں نہ بیماری ہے اور نہ میڈیکل انفٹ ہوں۔اس پر مجھے تقریبا(400000)چارلاکھ بونس مل گیا اور ابھی مجھے ہر مہینے(13000)تیراہزارروپے پینشن آتاہیں۔کیا میرے لیے یہ بونس لینا جائز ہے؟نیز کیاماہانہ پینشن میرے لئے جائز ہے؟یاصرف بیس فیصد لینا میرےلئے جائزہوگی یانہیں؟

جواب

             شریعت مطہرہ کی روسے کسی کامال بغیر کسی استحقاق محض دھوکہ وفریب سے حاصل کرنااوراسےاستعمال کرنا حرام ہے۔

             صورت مسؤلہ میں اگر کوئی شخص حقیقت میں بیمار نہ ہواورمیڈیکل رپورٹ کے ذریعے اپنے آپ کو خلاف حقیقت بیمارظاہرکروارہاہو،اور یوں دھوکہ دہی وفریب سے اپنےآپ کو پینشن کامستحق بنارہاہو،توایسی صورت میں اس شخص کےلئے یہ پینشن لیناجائزنہیں ہوگا،اور یہی حکم بونس وغیرہ کوبھی شامل ہے۔

 

 قال الله تعالى:يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا۔(النساء۔29)

عن أبي سعيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لكل غادر لواء يوم القيامة، يرفع له بقدرغدرته۔(مسند احمد،ج:18،ص:21)

لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي۔(البحر الرائق،كتاب الحدود،فصل في التعزير،ج:5،ص:67)


فتویٰ نمبر : 5048/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں