بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 23/08/2026 |
دارالافتاء
تین ماہ کے بچے کی پرورش کاحق
سوال
اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو حیض میں تین طلاقیں دےدےجب کہ اس کا بیٹا تین ماہ کا ہو اور ماں اس کو دودھ پلاتی ہو تو شرعاًاس صورت میں بچے کی پرورش کا حق کس کو ہو گا؟
جواب
واضح رہے کہ جب شوہراور بیوی کے درمیان جدائی آجائے اور ان کے بچے ہوں تو لڑکا سات(7) سال کی عمر تک اور لڑکی نو(۹)سال کی عمرتک ماں کی پرورش و تربیت میں رہے گی۔البتہ نفقہ اور سکنی کی ذمہ داری والد کی ہوگی۔اس عمر کے بعد والد کو اولاد کی پرورش کا حق حاصل ہوگا۔
صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہوں جب کہ اس کا بیٹا تین ماہ کا ہو تو شرعاً بیٹے کا نفقہ معروف طریقے سے والد کے ذمہ لازم ہے اور اس کی پرورش وتر بیت کاحق سات(7)سال تک ماں کو حاصل ہے۔
(والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب۔۔۔بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية۔(الدر المحتار على صدر رد المختار، باب الحضانة، ج:5، ص:268)
أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم إلا أن تكون مرتدة أو فاجرة غير مأمونة كذا في الكافي.(الفتاوى الهندية، ج:1، ص:564)
(وإذا وقعت الفرقة بين الزوجين فالأم أحق بالولد) لما روي «أن امرأة قالت: يا رسول الله إن ابني هذا كان بطني له وعاء وحجري له حواء وثديي له سقاء وزعم أبوه أنه ينزعه مني، فقال - عليه الصلاة والسلام -: أنت أحق به ما لم تتزوجي»(العناية شرح الهداية، باب الولد من أحق به، ج:4، ص: 367)
نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد۔۔۔فإن أبى أن يكتسب وينفق عليهم يجبر على ذلك، ويحبس كذا في المحيط۔۔۔الذكور من الأولاد إذا بلغوا حد الكسب۔۔۔وأما الإناث فليس للأب أن يؤاجرهن في عمل، أو خدمة۔( الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، باب النفقات، الفصل الرابع في نفقة الاولاد، ج:1، ص:582)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں