بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

مدرسہ کے سفیر کے لیے چندہ کی رقم سےحصہ مقرر کرنا


سوال

آج کل مدارس دینیہ کے لیے بعض  سفیر حصہ مقرر کرکے چندہ کرتے ہیں۔تو سفیر کو یہ پیسے دینا کیسا ہے؟

جواب

            کسی ادارے کے سفیر کی حیثیت اجیر کی ہوتی ہے اور عقد اجارہ میں ضروری ہےکہ اجرت متعین ہواورعمل بھی۔

             صورت مسئولہ میں کمیشن  پریعنی حصہ مقرر کرکے چندہ اکٹھا کرنا دو وجہ سے اجارہ فاسدہ ہے:ایک بوجہ جہالت اجرت،کیونکہ چندہ کی مقدار مجہول ہے اس لیے اجرت بھی مجہول ہے۔دوسرا یہ کہ اس میں اجرت اجیر کے عمل سے حاصل ہوتی ہےاور شریعت مطہرہ میں یہ بھی ناجائز ہے۔البتہ یہ صورت اختیار کرنا جائز ہےکہ سفیر کے لیے لوگوں کے پاس جانے اور مدرسہ کی ضروریات بتاکر چندہ کی ترغیب دینے کے عوض روزمرہ یا ماہانہ حساب سےاجرت مقرر کی جائے۔اسی طرح چندہ میں زکوۃ کی مد میں جو رقم جمع ہو جائے،اس کی تملیک سے قبل سفیر کوتنخواہ میں دینا جائز نہیں،البتہ مستحق طلبہ سے تملیک کروانے کے بعد اگر وہ مدرسہ میں جمع کریں تو اس سےسفیر  یا دیگر عملہ کی تنخواہیں دی جا سکتی ہیں۔

 

وشرطها: كون الاجرة والمنفعة معلومتين لان جهالتهما تفضي إلى المنازعة. (الدرالمختارمع ردالمحتار،کتاب الإجارة،ج:9،ص:8)

( ولو دفع غزلا لآخر لينسجه له بنصفه ) أي بنصف الغزل۔۔۔۔ فسدت في الكل لأنه استأجره بجزء من عمله۔ (الدرالمختارمع ردالمحتار،باب الإجارةالفاسدة،ج:6،ص:56)


فتویٰ نمبر : 3048/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں