بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

تراویح میں ختمِ قرآن پر اجرت لینا


سوال

 اگر حافظ قرآن امام کی جگہ محلے والوں کو ترایح ميں ختم پڑھائے اور اس کی نیت تراویح پڑھانے پرپیسے لینے کی بالکل نہ ہو اور محلے والے اس کو ترایح پڑھانےپر پیسےدے دیں تو کیا حافظ کے لیے یہ پیسے لینا جائز ہے؟

جواب

           واضح رہے کہ رمضان المبارک میں قرآن سننا اور سنانا بڑی فضیلت اور اجر وثواب کا باعث ہےتاہم شرعا عمل کی قبولیت اخلاص پر موقوف ہے۔ دکھلاوے، شہرت یا کسی دنیوی غرض سے کیا جانے والا عمل بارگاہِ الہی میں قبول نہیں، یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید پڑھنے پر اجرت و معاضہ لینا جائز نہیں، البتہ اگر قرآن سنانے والے کو بلااجرت محض ہدیہ کے طور پر رقم وغیرہ دی جائے تو اس کے لینے کی گنجائش ہے۔

            صورت مسؤلہ کے مطابق اجرت اور معاوضہ وصول کرنے کی غرض سے تراویح میں قرآن مجید سنانا اور اس پر رقم لیناجائز نہیں، تاہم اگرکہیں حافظ قرآن کو رمضان المبارک کے لیے نائب امام بنا دیا جائے اور اس کے ذمہ ایک دو نماز سپرد کردی جائیں اور اس خدمت کے عوض تنخواہ کے نام سے اسے کچھ دیا جائے تو اس کے لینے اور دینے کی گنجائش ہے، اسی طرح اگر بلا اجرت ہدیہ کے طور پر کچھ رقم دے دی جائے تو یہ صورت بھی قرآن کریم پر معاوضہ لینے سے خارج ہونے کی وجہ سے جائز ہے۔

 

عَنْ زَاذَانَ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ يَأْكُلُ بِهِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَوَجْهُهُ عَظْمٌ لَيْسَ عَلَيْهِ لَحْمٌ.(مصنف ابن أبي شيبه، كتاب الصلاة، باب في الرجل يقوم بالناس في رمضان فيعطى، رقم الحديث:7824، ج:4، ص:400)

(وقال الشعبي لا يشترط المعلم إلا أن يعطى شيئا فليقبله)...وقول الشعبي هذا يدل على أن أخذ الأجر بالاشتراط لا يجوز فإن اعطى من غير شرط فإنه يجوز أخذه لأنه إما هبة أو صدقة، وليس بأجرة، وأصحابنا الحنفية قائلون بهذا أيضا.(عمدة القارى،باب ما يعطى في الرقية على أحياء العرب بفاتحة الكتاب، ج:12، ص:57)

فالحاصل أن ما شاع في زماننا من قراءة الأجزاء بالأجرة لا يجوز؛ لأن فيه الأمر بالقراءة وإعطاء الثواب للآمر والقراءة لأجل المال؛ فإذا لم يكن للقارئ ثواب لعدم النية الصحيحة فأين يصل الثواب إلى المستأجر ولولا الأجرة ما قرأ أحد لأحد في هذا الزمان بل جعلوا القرآن العظيم مكسبا ووسيلة إلى جمع الدنيا۔(ردالمحتار، كتاب الإجارة، ج:9، ص:77)

واختلفوا في الاستئجار على قراءة القرآن مدة معلومة: قال بعضهم: لا يجوز: وقال بعضهم: يجوز وهو المختار اهـ والصواب أن يقال على تعليم القرآن، فإن الخلاف فيه كما علمت لا في القراءة المجردة فإنه لا ضرورة فيها. (ردالـمـحـتـار، كتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة مطلب : تحرير مهم في عدم جواز الاستئجار على التلاوة، ج:9، ص:77)


فتویٰ نمبر : 9211/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں