بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

مہر مثل سے کم مہر پر کفو میں نکاح کرنا


سوال

اگر عاقل بالغ لڑکا اور لڑکی دو مسلمان گواہوں کے سامنے نکاح کریں اور دونوں ہر لحاظ سے کفو میں برابر ہو لیکن نکاح میں مہر مثل سے بہت کم مہر رکھا جائے توکیااس سے نکاح منعقد ہو سکتا ہے یا نہیں؟ اور اگر نکاح منعقد ہوا ہے تو کیا یہ نکاح کفو میں شمار ہوگا؟

جواب

            نکاح کا اصل دارومدار ایجاب وقبول اور شرعی گواہوں کی موجودگی پر ہے لہذا کوئی بھی ایسا نکاح جو دو مسلمان مردوں کی موجودگی میں کفو کے ساتھ کرایا جائے؛ منعقد رہے گا،نیز مہر شرعا کفائت کے شرائط میں سے نہیں ہے،البتہ کوئی عورت ولی کی اجازت کے بغیر مہر مثل سے کم مہر پر نکاح کرلے تو ایسی صورت میں اولیاء کو اعتراض کا حق حاصل ہےیہاں تک کہ شوہر مہر مثل کی مقدار پوری کردے یا ولی بذریعہ قاضی اس نکاح کو فسخ کردے۔

             صورت مسؤلہ میں اگر مذکورہ لڑکے اور لڑکی نےدو مسلمان گواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ ایجاب و قبول کےساتھ نکاح کیا ہو تو شرعا نکاح منعقد ہوا ہے۔ اگر دونوں کے مابین کفائت کے دوسرے شرائط پائے جاتے ہوں تو مہر کی کمی کی وجہ سے یہ نکاح غیر کفو میں شمار نہیں ہوگا، البتہ مہر مثل سے کم مہر کی وجہ سے لڑکی کے اولیاء کو حق حاصل ہے اگر وہ چاہتے ہیں تو عدالت کے ذریعے نکاح فسخ کروا نے کا دعوی دائر کر سکتے ہیں۔

 

النكاح ينعقد بالإيجاب والقبول بلفظين يعبر بهما عن الماضي... ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتين. (الهدايه، كتاب النكاح، ج:1، ص:185)

ونظم العلامة الحموي ما تعتبر فيه الكفاءة فقال:إن الكفاءة في النكاح تكون في ست لها بيت بديع قد ضبط نسب وإسلام كذلك حرفة حرية وديانة مال فقط. (ردالمحتار على الدر المختار، كتاب النكاح، باب الكفاءة، ج:3، ص:86)

ولو تزوجت المرأة ونقصت من مهر مثلها فللولي الاعتراض عليها حتى يتم لها مهرها أو يفارقها وإذا فارقها قبل الدخول فلا مهر لها، وإن فارقها بعده فلها المسمى وكذا إذا مات أحدهما قبل التفريق وهذا عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وقالا: ليس له الاعتراض هكذا في التبيين ولا تكون هذه الفرقة إلا عند القاضي وما لم يقض القاضي بالفرقة بينهما فحكم الطلاق والظهار والإيلاء والميراث باق، كذا في السراج الوهاج. (الفتاوی الهنديه، كتاب النكاح، الباب الخامس في الأكفاء في النكاح، ج:1، ص:293)


فتویٰ نمبر : 6447/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں