بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

زندگی بھرروزے رکھنے کی منت ماننے كے بعد روزہ کی طاقت نہ رکھنا


سوال

ایک جوان عورت نے نذر(منت) مانی تھی کہ اگر میرے شوہر اور میرے بھائیوں  کے درمیان زمین کا تنازع ختم ہوا  تو میں ہر جمعرات اور پیر کو ساری عمر روزے رکھوں گی اب اس کی عمر پچاسی سال ہے اور انتہائی کمزور ہے صرف گھر میں آہستہ آہستہ ضرورت کے لیے چلتی ہے یعنی انتہائی ضعیف ہے اور ضعف کی وجہ سے روزے نہیں رکھ سکتی۔اس نے ایک   استاد سے پوچھا کہ کیا میں ان روزوں کا فدیہ دے سکتی ہوں؟ تو اس نے بتایا کہ منت کے روزوں کا فدیہ نہیں ہوسکتا آپ مرتے دم تک روزے رکھے گی اب وہ انتہائی پریشان ہے کیا واقعی وہ تا حیات منت کے روزے رکھے گی؟

جواب

               شریعت مطہرہ کی رو سے اگر  کوئی شخص(بالغ مردہو یا عورت)کسی کام  کو نذر کے ساتھ مشروط کرے تو شرط کے موجود ہونے  کےساتھ نذر کی ادائیگی واجب ہوجاتی ہے،نیز یہ بھی ہے کہ  منذور عبادت مقصود ہ ہو اور اس کے جنس سے کوئی فرض یا واجب ہو تو ایسی نذر پوری  کرنا واجب اور ضروری ہے۔

            صورت مسؤلہ کے مطابق اگرمذکورہ عورت نے نذر(منت) مانی تھی کہ اگر میرے شوہر اور میرے بھائیوں  کے درمیان زمین کا تنازع ختم ہوا تو میں ہر جمعرات اور پیر کو ساری عمر روزے رکھوں گی  تو متعلقہ تنازع حل  ہوجانے کی صورت میں اس عورت پر یہ نذر پورا کرنا واجب ہوگا جب تک روزے رکھنے کی طاقت ہے تب تک روزہ رکھنا ہی واجب  ہے فدیہ دینا جائز نہیں ۔ نیز جو روزے قضا کیے ہیں  اس کی قضا کرے گی۔تاہم اگر بڑھاپے کی وجہ سے روزے نہیں رکھ سکتی تو ایسی  صورت میں اس کے لیے ان روزوں کا فدیہ دینا جائز ہے،جوکہ ہر روزہ کے بدلے میں ایک صدقہ فطر فقیر کو دینی ہے،لیکن اگر غربت کی وجہ سے  فدیہ دینے  کی بھی طاقت نہیں رکھتی  تو پھر اللہ تعالی سے معافی مانگےگی امید ہے اللہ تعالی  معاف فرمائیں گے۔

 

ومن نذر نذرا مطلقا أو معلقا بشرط وكان من جنسه واجب وهو عبادة مقصودةووجد الشرط لزم الناذر۔(الدرالمختار علی صدر ردالمحتار، کتاب الأيمان، ج:5، ص:515)

وقد روي عن محمدرحمه الله تعالی قال: إن علق النذر بشرط يريد كونه كقوله إن شفى الله مريضي أو رد غائبي لا يخرج عنه بالكفارة كذا في المبسوط.ويلزمه عين ما سمى كذا في فتاوى قاضي خان۔ (الفتاوی الهندية، کتاب الأيمان،  الفصل الثاني في الكفارة، ج:2، ص:71)

إذا نذر أن يصوم كل خميس يأتي عليه فأفطر خميسا واحدا فعليه قضاؤه۔ ولو أخر القضاء حتى صار شيخا فانيا أو كان النذر بصيام الأبد فعجز لذلك أو باشتغاله بالمعيشة لكون صناعته شاقة فله أن يفطر ويطعم لكل يوم مسكينا على ما تقدم، وإن لم يقدر على ذلك لعسرته يستغفر الله إنه هو الغفور الرحيم۔ (الهندية، كتاب الصوم، الباب السادس في النذر، ج:1، ص:209)


فتویٰ نمبر : 9198/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں