بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

طلبا سے مالی جرمانہ وصول کرنا


سوال

جرمانہ حرام ہے مگر بعض مالدار بچے بغیر کسی عذر کی غیر حاضری کرتے ہیں نیز بظاہرجرمانہ لینے کے بغیر  متبادل اصلاحی  صورت ممکن نہیں،اب سوال یہ ہےکہ سزا کے طور پر ان سے مالی جرمانہ لے کر انہی کی نیت سے خیرات کرتی ہوں،کیا یہ شرعا درست ہے؟

جواب

              واضح رہےکہ تعزیر بالمال(مالی جرمانے)کےجواز میں فقہاءکرام کا اختلاف ہے،فقہاےاحناف میں سے اکثر فقہاے کرام کے ہاں تعزیربالمال جائز نہیں البتہ امام ابو یوسف سےاس کا جوازمنقول ہےاور موجودہ حالات کا تقاضہ بھی یہی ہےکہ بعض انتظامی امور میں مالی جرمانہ مقرر کیا جائے،کیونکہ ہر مجرم کو بدنی سزا دینے سے لوگ مشقت میں پڑ جائیں گے  جو تنفیر کا سبب بنے گا،اور بسا اوقت مالی سزا بدنی سزا سے زیادہ کار آمد ثابت ہوسكتا ہے، لہذا موجودہ حالات  میں  امام ابو یوسف کے قول سے استفادہ کرتے ہوئے جواز کی گنجائش  دینا مناسب معلوم ہوتا ہے، علامہ ابن عابدین نےبزازیہ سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ امام تعزیر میں مال لے سکتا ہے لیکن خود استعمال نہیں کرسکتا بلکہ مجرم  کی توبہ اور اصلاح  کے بعد اس کو واپس لوٹا دے گا،اور ایک قول یہ بھی  نقل کیاہے  کہ امام  اگر مجرم کی توبہ سے نا امید ہوجائے تو خیر کے کام  میں اس کو خرچ کرے۔

            صورت مسؤلہ  کے مطابق اگرتادیب کی نیت  سے وسعت کے بقدر  بچوں سے مالی جرمانہ وصول کیا جائےتو شرعا یہ جائز ہے،البتہ معلمہ خود اس کو استعمال نہیں کرسکتی بلکہ بچوں کی اصلاح کے بعدان کو واپس لوٹا دے گی،تاہم  جرمانہ کی  واپسی کی وجہ سےاگر  جرم کا سد باب    مشکل ہو تو ایسی صورت میں اس رقم کو رفاہ عامہ میں خرچ کرنے کی گنجائش ہے۔

 

يَجُوزُ التَّعْزِيرُ بِأَخْذِ الْمَالِ وَهُوَ مَذْهَبُ أَبِي يُوسُفَ وَبِهِ قَالَ مَالِكٌ ، وَمَنْ قَالَ : إنَّ الْعُقُوبَةَ الْمَالِيَّةَ مَنْسُوخَةٌ فَقَدْ غَلِطَ عَلَى مَذَاهِبِ الْأَئِمَّةِ نَقْلًا وَاسْتِدْلَالًا وَلَيْسَ بِسَهْلٍ دَعْوَى نَسْخِهَا .

وَفِعْلُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ وَأَكَابِرِ الصَّحَابَةِ لَهَا بَعْدَ مَوْتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُبْطِلٌ لِدَعْوَى نَسْخِهَا ، وَالْمُدَّعُونَ لِلنَّسْخِ لَيْسَ مَعَهُمْ سُنَّةٌ وَلَا إجْمَاعٌ يُصَحِّحُ دَعْوَاهُمْ(معين الحكام، ص:231)

وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي.

وفي المجتبى لم يذكر كيفية الأخذ وأرى أن يأخذها فيمسكها، فإن أيس من توبته يصرفها إلى ما يرى.(ردالمحتار علي الدرالمختار، كتاب الحدود، باب التعزير،، مطلب في التعزير باخذالمال، ج:4، ص:61)


فتویٰ نمبر : 5051/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں