بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/08/2026

دارالافتاء

 

غیرمسلموں کےساتھ ان کے تہوارمیں شریک ہونااوران کو شربت پلانا


سوال

غیر مسلم لوگوں کے تہوار میں شریک ہونا اور ان کو ان کے  تہوارمیں شربت پلانا کیسا ہے؟

جواب

             غیرمسلموں کےمذہبی تہواران کےغلط عقائدکی وجہ سےایسےامورپرمشتمل ہوتےہیں جن سےشرک یادیگرخلاف شرع امورکاارتکاب ہوتاہے،اس لیےاگرکوئی مسلمان ان کےتہوارمیں شریک ہوکران امورکودل سےجائزیابہترسمجھتاہوتویہ ایمان کےزوال کاسبب بن جاتاہے،لیکن اگر ان چیزوں کوجائزنہیں سمجھتاتوپھربھی چونکہ اس کی شرکت سےان کےغلط عقائدکی تقویت کاسبب بنتاہے،اس لیےاس میں شرکت بہرحال جائزنہیں۔

 

(والاعطاء باسم النيروز والمهرجان لا يجوز ) أي الهدايا باسم هذين اليومين حرام بل كفروقال أبو حفص الكبير رحمه الله لو أن رجلا عبد الله تعالى خمسين سنة ثم جاء النيروز وأهدى إلى بعض المشركين بيضة يريد تعظيم ذلك اليوم فقد كفر وحبط عمله وقال صاحب الجامع الأصغر إذا أهدي يوم النيروز إلى مسلم آخر ولم يرد به تعظيم اليوم ولكن على ما اعتاده بعض الناس لا يكفر ولكن ينبغي له أن لا يفعل ذلك في ذلك اليوم خاصة ويفعله قبله أو بعده لكيلا ( لكي ) يكون تشبيها باؤلئك القوم۔ (البحرالرائق،مسائل شتی،ج:8،ص:555)


فتویٰ نمبر : 5069/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں