بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
حاملہ مزنیہ سے نکا ح اور ثبوت نسب کا حکم
سوال
اگر کسی شخص نےکسی عورت سے زنا کیا ،جس سے وہ حاملہ ہوجائے پھر زانی نے مزنیہ سے نکاح کیا ،نکاح کے سات ماہ بعدبچہ پیدا ہوا ،توکیا یہ نکاح جائز ہے یا نہیں ؟ اسی طرح اس بچہ کا نسب اس زانی سے ثابت ہوگا یا نہیں ،نیز یہ بچہ مستحق میراث ہوگا یا نہیں؟
جواب
شریعت مطہرہ کی روسےاگرکسی شخص نےکسی خاتون سے زنا کیا جس سے وہ حاملہ ہوگئ پھراس زانی نے مزنیہ سے نکاح كيا تو یہ نکاح جائز ہے اور نکاح کے بعد اس سے ہمبستری کرنا بھی جائز ہے۔نیز نکاح کے بعد اگر بچہ کی پیدائش میں چھ ماہ گزر چکے ہوں توایسی صورت میں اس بچہ کانسب اس آدمی سے ثابت ہوگا اورمیراث کے شرعی قانون کے مطابق(باپ کے فوت ہونے کے بعد) یہ بچہ اس آدمی کی میراث کا بھی مستحق ہوگا۔
صورت مسؤلہ کے مطابق اگرکسی شخص نےکسی خاتون سے زنا کیا ہو ،جس سے وہ حاملہ ہوگئ پھراس زانی نے مزنیہ سے نکاح کیا اورنکاح کے سات ماہ بعدبچہ پیدا ہوا ہوتوایسی صورت میں یہ نکا ح جائز ہے اور نکاح کے بعد منکوحہ مزنیہ سے ہمبستری کرنا بھی جائز ہے۔اسی طرح اس بچہ کانسب اس آدمی سے ثابت ہوگا اور باپ کے فوت ہونے کے بعدیہ بچہ اس آدمی کی میراث کا بھی مستحق ہوگا۔
إذا تزوج امرأة قد زنى هو بها وظهر بها حبل فالنكاح جائز عند الكل وله أن يطأها عند الكل۔(الفتاوی الهنديۃ، القسم السادس المحرمات التى يتعلق بهاحق، ج:1، ص:280)
ولو زنى بامرأة فحملت، ثم تزوجها فولدت إن جاءت به لستة أشهر فصاعدا ثبت نسبه، وإن جاءت به لأقل من ستة أشهر لم يثبت نسبه إلا أن يدعيه ولم يقل: إنه من الزنا أما إن قال: إنه مني من الزنا فلا يثبت نسبه ولا يرث منه۔(الفتاوی الهنديه، كتاب الطلاق، الباب الخامس عشر في ثبوت النسب، ج:1، ص540)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں