بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بيوہ کے لیےفوت شدہ خاوند کو دیکھنا اور غسل دینا


سوال

 اگر کسی عورت کا شوہر فوت ہوجائے توبیوہ کے لیےاس کے چہرے کو دیکھنااوراسے غسل دینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

           شریعت مطہرہ کی رو سےمیاں بیوی میں سےاگرکسی ایک کا انتقال ہوجائے تو ان میں سے ہر ایک کے لیےدوسرے کے چہرے کو دیکھناجائز ہے،نیز بیوہ کے لیےشوہر کو چھونااورغسل  دینا  بھی جائز ہے،بشرطیکہ خاوند نے زندگی میں بیوہ کو طلاق با ئن یا طلاق مغلظہ دے کرجدا نہ کیا ہو،تاہم  شوہر کے لیے فوت شدہ  بیوی کوچھونا یاغسل دینا جائز نہیں۔

            صورت مسؤلہ کے مطابق اگر مذکورہ عورت کا شوہر فوت ہوجائےاور زندگی میں خاوند نے بیوہ کو طلاق با ئن یا طلاق مغلظہ دے کرجدا نہ کیا ہو توبیوہ کے لیےاس کے چہرے کو دیکھنااوراسے غسل دینا جائز  ہے۔

 

(ويمنع زوجها من غسلها ومسها لا من النظر إليها على الأصح)۔۔۔ (وهي لا تمنع من ذلك)(قوله وهي لا تمنع من ذلك) أي من تغسيل زوجها دخل بها أو لا كما في المعراج ومثله في البحر عن المجتبى.

 قلت: أي لأنها تلزمها عدة الوفاة، ولو لم يدخل بها، وفي البدائع: المرأة تغسل زوجها؛ لأن إباحة الغسل مستفادة بالنكاح، فتبقى ما بقي النكاح، والنكاح بعد الموت باق إلى أن تنقضي العدة بخلاف ما إذا ماتت فلا يغسلها لانتهاء ملك النكاح لعدم المحل فصار أجنبيا، وهذا إذا لم تثبت البينونة بينهما في حال حياة الزوج، فإن ثبتت بأن طلقها بائنا، أو ثلاثا ثم مات لا تغسله لارتفاع الملك بالإبانة إلخ (تنويرالأبصار مع ردالمحتار، باب صلاة الجنازة، ج:2، ص:198)


فتویٰ نمبر : 9219/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں