بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

نا فرمان بيوی کا نفقہ


سوال

اگر کسی شخص نے کسی  لڑکی سے شادی کی جس سے ایک بچہ بھی  پیدا ہوا ہوپھر یہ عورت بلاوجہ اپنے والد کے گھر چلی گئی اب خاوند اسے گھر لاناچاہتاہے لیکن یہ  خاوند کے پاس جانے کے لیے راضی نہیں اور اوپر سے نان ونفقہ کا مطالبہ کرتی ہے، تو کیا ایسی صورت میں نفقہ دینا شوہر کے ذمے واجب ہے یا نہیں؟

جواب

             شریعت مطہرہ کی رو سےاگر شوہر اپنی بیوی سےاپنے گھر منتقل ہوجانے کا مطالبہ کرےاور بیوی اپنے حق مہر ادائیگی  کا مطالبہ کرے اور شوہر کے پاس  جانے سے انکار کرے اور تاحال شوہر نے حق مہر ادا نہ کیا ہو تو اس صورت میں  عورت کا نفقہ  شوہر پر لازم ہوگا ،البتہ اگر شوہر کے ذمے حق مہر باقی نہ ہو،یا مہر باقی ہو لیکن مؤجل ہونیز شوہر حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی بھی نہ کررہاہو تو اس صورت میں بیوی اگر شوہر کے گھر جانے سے انکار کرے تو شوہر کے ذمے اس کا نفقہ لازم نہیں۔

            صورت مسؤلہ کے مطابق ا گر کسی شخص نے کسی خاتون سے شادی کی ہواوراس  سے ایک بچہ پیداہو،جس کے بعدیہ عورت کسی معقول وجہ کے بغیر اپنے والد کے گھر چلی گئی ہو اور خاوند اسے گھر لاناچاہتاہے لیکن یہ  خاوند کے پاس جانے کے لیے راضی نہیں تو ایسی صورت میں خاوند کے ذمے بیوی کانفقہ لازم نہیں،البتہ بلوغ تک اس بچے کا نفقہ والد کے ذمے واجب ہوگا۔

 

 فإن كان الزوج قد طالبها بالنقلة، فإن لم تمتنع عن الانتقال إلى بيت الزوج فلها النفقة، فأما إذا امتنعت عن الانتقال، فإن كان الامتناع بحق بأن امتنعت لتستوفي مهرها فلها النفقة، وأما إذا كان الامتناع بغير الحق بأن كان أوفاها المهر أو كان المهر مؤجلا أو وهبته منه فلا نفقة لها۔ (الهندية، كتاب الطلاق، الباب سابع عشر في النفقات، ج:1، ص:545)

 نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد۔ (الهندية، كتاب الطلاق، الباب سابع عشر في النفقات، ج:1، ص:560)        


فتویٰ نمبر : 6442/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں