بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
پیدل حج کو جانا
سوال
آج جو سوشیل میڈیا پر بہت چرچے ہو رہے ہیں ہندوستان کے ایک شخص شہاب بھائی کا جو ہندوستان سے پیدل چل کر حج کو جا رہے ہیں اور یہ سفر کی مسافت ایک سال ہے- انکے حوصلے کو میرا سلام لیکن میرا سوال یہ ہے کہ اس طریقے سے ایک سال کا سفر کر کے حج کو جانا اسلام کی روشنی میں کیسا ہے ؟ جب کہ اللہ کے رسول کی حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ اسکے پیدل چلنے سے بے نیاز ہے, اسے حکم دو کہ وہ سواری پر سوار ہو جائے - لوگ یہ حدیث اور دیگر احادیث کا حوالہ دیکر کہتے ہیں کہ اس شخص کا یہ فعل اسلام کی روشنی میں درست نہیں- براہ کرم آپ اسکی رہنمائی فرمائیں؟
جواب
جولوگ حدود حرم سے باہر رہتے ہیں ان پرحج کی فرضیت کے لیے شرط یہ ہے کہ مکہ معظمہ تک سواری پرپہنچنےکا خرچہ ہو اور سفر کے ضروری مصارف اورواپسی تک اہل وعیال کے نفقہ کی استطاعت بھی رکھتا ہو ،جس کے پاس اتنی رقم نہ ہو کہ وہ سواری پر جاسکے اس پر پیدل حج کرنا فرض نہیں لیکن اگر کوئی شخص پیدل حج کرے تو ناجائز بھی نہیں ،مگر اس کے لیے یہ شرط ہے کہ وہ پیدل چلنے کی طاقت رکھتا ہوتاکہ راستہ کی تکلیف سے دل تنگی اور دشواری پیش نہ آئے اور یہ پیدل جانا محض ثواب اور رضائے الٰہی کے لئےہو شہرت مقصود نہ ہو۔قرآن کریم کی آیت ."وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ.......الاية"(الحج:27)میں ہے کہ حج کے لیے لوگ پیدل بھی آئیں گےاور سواری پر بھی آئیں گے۔اس آیت سے پیدل حج کاجائز ہونا معلوم ہوتا ہے ۔تاہم پیدل حج پر جانا سنت نہیں کیونکہ نبی کریمﷺ نے نہ پیدل حج کیا اور نہ ہی اس کی تر غیب دی،بلکہ ایک عورت نے منت مانی تھی کہ میں پیدل حج کروں گی تو آپﷺ نے اس کے بارے میں فرمایاکہ "اس سے کہو سواری پرجائے"۔اس حدیث کی روسےدور دراز سے آنے والوں کے لیے سواری پر آنا ہی افضل ہے۔تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ پیدل حج پر جانا مطلقا ناجائزہےبلکہ جسے آپﷺ نے منع کیاوہ ایک کمزور اور بوڑھی عورت تھی جو بلاشبہ پیدل حج کی استطاعت نہیں رکھتی تھی۔لہذااس روایت کی وجہ سے پیدل حج کو سرے سے ناجائزسمجھنا درست نہیں۔
قال الله تعالى:وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ۔(سورة آل عمران۔97)
وقال تعالى :وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ۔(سورة الحج۔27)
عن عائشة، أن النبي صلى الله عليه وسلم دخل عليها وعندها امرأة، قال: من هذه؟۔قالت: فلانة، تذكر من صلاتها، قال: مه، عليكم بما تطيقون، فوالله لا يمل الله حتى تملوا۔(صحيح البخاري،باب احب الدين إلى الله عزوجل أدومه،ل:1،ص:17)
عن أنس قال: نذرت امرأة أن تمشي إلى بيت الله، فسئل نبي الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك؟ فقال:إن الله لغني عن مشيها، مروها فلتركب۔(سنن الترمذي،باب ما جاء في من يحلف بالمشي ولا يستطيع،ج:4،ص:111)
عن ابن عمر قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله، ما يوجب الحج؟ قال:الزادوالراحلة۔(سنن الترمذي،باب ماجاء في ايجاب الحج بالزاد والراحلة،ج:3،ص:168)
الحج واجب على الأحرار البالغين العقلاء الأصحاء إذا قدروا على الزاد والراحلة فاضلا عن المسكن وما لا بد منه وعن نفقة عياله إلى حين عوده۔(الهدايُة،كتاب الحج،ج:1،ص:132)
أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فسر الاستطاعة: بالزاد، والراحلة جميعا فلا تثبت الاستطاعة بأحدهما، وبه تبين أن القدرة على المشي لا تكفي لاستطاعة الحج ثم شرط الراحلة إنما يراعى لوجوب الحج في حق من نأى عن مكة فأما أهل مكة ومن حولهم فإن الحج يجب على القوي منهم القادر على المشي من غير راحلة؛ لأنه لا حرج يلحقه في المشي إلى الحج كما لا يلحقه الحرج في المشي إلى الجمعة۔(بدائع الصنائع،فصل شرائط فرضية الحج،ج:2،ص:122)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں