بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/08/2026

دارالافتاء

 

دادا کا اپنے یتیم پوتے کو جائیداد ہبہ کرنا


سوال

اگر کسی کا باپ فوت ہوجائے لیکن اس کا دادا زندہ ہو تو اگر دادا اپنی زندگی میں کچھ زمین بطورِ ملکیت اپنے یتیم پوتے کو قبضہ میں دے دے تو دادا کی فوتگی کے بعد پوتوں کو قبضہ میں دی گئی یہ جائیداد ترکہ میں تقسیم ہوگی یا صرف پوتوں کی ملکیت ہوگی؟

جواب

            واضح رہے کہ انسان کو اپنی زندگی میں مرضِ وفات سے  پہلے اپنے کل مال میں جائز تصرف کا حق حاصل ہے لہذا جو رشتہ دار شرعی طور پر وارث نہ بن رہے ہوں لیکن وہ مستحق اورضرورت مند ہوں تو اپنی زندگی میں انہیں ہبہ کیا جا سکتا ہے تاہم ہبہ تام ہونے کے لیے ضروری ہے کہ مکمل قبضہ اور تصرف بھی ان کو دیا جائے۔

                صورت مسئولہ میں  اگر واقعی دادا نے بحالت ِ ہوش وحواس یتیم پوتے کو زمین دے کر قبضہ اور تصرف اس کےحوالہ کر دیاہو توزمین پرپوتے  کی ملکیت ثابت ہوگی،لہذا  بعد میں دادا کے فوت ہوجانے سے بطورِ میراث مذکورہ زمین میں دادا کے دیگر ورثا کی شرکت ثابت نہ ہوگی۔

 

ليس له حق الرجوع بعد التسليم في ذي الرحم المحرم وفيما سوى ذلك له حق الرجوع إلا أن بعد التسليم لا ينفرد الواهب بالرجوع بل يحتاج فيه إلى القضاء أو الرضا. (الفتاوى الهندية، الباب الخامس في الرجوع في الهبة، ج:4، ص:385)

لا يثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية. (الفتاوى الهندية، الباب الثاني فيما يجوز من الهبة وما لا يجوز، ج:4، ص:378)


فتویٰ نمبر : 5041/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں