بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 25/10/2026 |
دارالافتاء
معذور شخص کاصف کے درمیان میں کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا
سوال
کسی معذور شخص کا صف کے درمیان میں کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟
جواب
ایسا معذور شخص جس کے لیے شرعا کرسی پر نماز پڑھنے کی اجازت ہو وہ صف کے درمیان میں اپنی کرسی لگاسکتا ہے،صف کے کنارے لگانا ضروری نہیں ہے ،خاص طور پرجب نماز شروع ہوتے وقت چند لوگ ہی ہوں تو کرسی کنارے پرنہیں لگانا چاہئے،ورنہ صف میں جگہ خالی رہ جائے گی جس سے حدیث شریف میں منع فرمایا گیا ہے،البتہ اگر صف میں خالی جگہ رہنے کا خطرہ نہ ہوتو بہتر یہی ہے کہ کنارے پر کرسی رکھ کرجماعت میں شریک ہو،تاکہ پیچھےاور دائیں بائیں جانب والےنمازیوں کو کسی طرح کی دشواری نہ ہواورصف ظاہری طور پر بھی سیدھی ہو۔
لہذا صورت مسئولہ کے مطابق صف کے درمیان میں کرسی پر بیٹھ کر نمازپڑھنے والے کے لیےبہتریہی ہے کہ وہ صف کے کنارے کرسی رکھ کر نماز پڑھے جب مقتدیوں کی تعداد زیادہ ہو،تاہم اگر کسی نے صف کے درمیان میں کرسی پر بیٹھ کر نمازپڑھی تو بھی جائز ہے۔
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "أقيموا الصُفوفَ، وحاذُوا بين المناكِبِ، وسُدُّوا الخَلَلَ، ولينُوا بأيدي إخوانِكم ولا تَذَروا فُرُجاتِ للشَّيطان، ومَن وصلَ صفاً وصلَه اللهُ، ومَن قطعَ صفاً قطعَه الله"۔ (سنن أبي داؤد،باب تسوية الصفوف،ج:2،ص:8،رقم الحديث:666)
قال في المعراج :الأفضل أن يقف في الصف الآخر إذا خاف إيذاء أحد قال عليه الصلاة والسلام من ترك الصف الأول مخافة أن يؤذي مسلما أضعف له أجر الصف الأول وبه أخذ أبو حنيفة ومحمد وفي كراهة ترك الصف الأول مع إمكانه خلاف:أي لو تركه مع عدم خوف الإيذاء وهذا لو قبل الشروع فلو شرعوا وفي الصف الأول فرجة له خرق الصفوف۔(ردالمحتارعلی الدرالمختار،مطلب في الكلام علی الصف الأول،ج:1،ص:569)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں