بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

بیوی کو صریح الفاظ کے ساتھ دو طلاق دینا


سوال

شوہر طاہر رزاق کا اپنی  بیوی شمیلہ طاہر سے جھگڑا ہوا تھا،اس دوران شوہر نے اپنی بیوی کو دو طلاق صریح  دی تھی،اس وقت اگرچہ شوہر نشے کی حالت میں تھا لیکن اتنا بھی نشے کی حالت میں نہیں تھا کہ کچھ نہیں جانتا تھا۔اس کےبعد اس کی بیوی نے عدت بھی گزاری ہے۔یا د رہے کہ ان دو طلاقوں سے پہلے شوہرنے اپنی  اسی اہلیہ کو ڈرانے کی خاطر ایک لفظ"Talussryq"کاغذ پر لکھا تھا لیکن اس لفظ سےاس نے نہ تو اپنی بیوی کی طرف نسبت کی تھی اور نہ اس کی طلاق کی نیت تھی۔اب پوچھنا یہ ہے کہ اس صورت ِ حال میں طلاق کا کیا حکم ہے؟

جواب

           شریعت  مطہرہ  کی رو سے طلاق کےلیے دو قسم کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں صریح (جس میں نیت کی ضرورت نہیں  ہوتی بلکہ  بغیر نیت کے طلاق واقع ہو جاتی ہے)اورکنائی(جس میں شوہر کی طرف سے نیت کی ضرورت ہوتی ہے)؛ان دو قسم کے الفاظ کے علاوہ  باقی الفاظ سے طلاق واقع نہیں  ہوتی،اسی طرح اگر کوئی مرد اپنی بیوی کو طلاق کے صریح الفاظ سے دو طلاق دے دے تو اس سے  طلاق رجعی واقع ہو جاتی ہے جس میں عدت کی اندر شوہر کو رجوع کا حق حاصل ہوتا ہے اور اگر شوہر نےعدت کے اندر رجوع نہیں کیا یہاں تک عدت گزر جائے تو تجدید نکاح کے بغیر ازدواجی رشتہ قائم نہیں کیا جا سکتا۔

          لہذا صورت مسئولہ کے مطابق پہلا لفظ "Talussryq" جوطاہر رزاق نامی شوہر نے کاغذ پر اپنی بیوی  شمیلہ طاہر کو لکھا ہےاگریہ لفظ عرف میں  طلاق کےلیے استعمال نہیں ہوتا،نیز شوہر نے اس لفظ سے طلاق کی نیت بھی نہ کی ہو توشرعااس سے طلاق واقع نہیں ہوئی ہےالبتہ مزید دو صریح طلاق دینے کے بعداگراسی بیوی نے عدت گزاری ہو تو میاں بیوی باہمی رضامندی سے تجدید نکاح کر سکتے ہیں لیکن  آئندہ شوہر کے پاس صرف ایک طلاق کا اختیار ہوگا۔

 

الطلاق على ضربين صريح وكناية فالصريح قوله أنت طالق ومطلقة وطلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي " لأن هذه الألفاظ تستعمل في الطلاق ولا تستعمل في غيره فكان صريحا.(الهداية،باب إيقاع الطلاق،ج:1،ص:225)

وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها.(الهداية،كتاب الطلاق،باب الرجعة،ج:2،ص:254)

إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها.(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،فصل فيما تحل نه المطلقة وما يتصل به،ج:1،س:473)


فتویٰ نمبر : 6436/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں