بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

ڈاکٹر کی طرف سے غلط ٹیسٹ تجویز کرنے پر رقم کی واپسی


سوال

میں پرائم ہسپتال میں بطور ماہر معدہ،جگر کام  کرتا ہو،جیسا کہ آپ کو پتہ ہے کہ ڈاکٹر مرض کی تشخیص کےلیے مریض کو مختلف ٹیسٹ لکھتا ہے بعض اوقات ہم غلطی سےا یک ٹیسٹ کی بجائے دوسرا ٹیسٹ لکھ دیتے ہیں جس کے پیسے ہم مریض کو واپس کر دیتے ہیں  تو اب یہ پیسے وہ ادارہ دے گا جدھر ڈاکٹر کام کر رہا ہے  یا ان پیسوں کا ذمہ دار وہ ڈاکٹر ہوگا جس سے خطا ہوئی ہے ؟واضح رہے کہ اس ٹیسٹ پر ادارے کا اتنا خرچہ نہیں آتا جتنے پیسے وہ مریض سے لیتا ہے کیونکہ ادارہ اپنے منافع کےلیے  کچھ اضافی  پرسنٹیج رکھتا ہے۔

جواب

           شریعت مطہرہ میں ڈاکٹر اور مریض دونوں کی ذمہ داریاں متعین ہیں اس ليے ڈاکٹركےليے ضروری ہےکہ  دوا یا ٹیسٹ لکھنے میں احتیاط سے کام لے تاکہ مریض کا صحیح علاج ہو سکےتاہم اگراپنی  کوشش کے باوجود غلطی سے مریض کو غلط دوا لکھ دے یا مریض سے غلط ٹیسٹ کروائے تو ڈاکٹر پر اس کا تاوان دینا ضروری نہیں البتہ اگر ڈاکٹر اپنی مرضی سے تبرعاً دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔

          لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اپنی بساط بهر کوشش کے باوجود اگرڈاکٹر سے ٹیسٹ کروانے میں غلطی ہو جائے تو اس کا تاوان ڈاکٹر یا ادارے کےلیے دینا لازم نہیں تاہم اگرتبرعا(اپنی طرف سے) دینا چاہے تو ڈاکٹر یا ادارہ کوئی بھی دے سکتا ہے۔

 

وإذا فصد الفصاد أو بزغ البزاغ ولم يتجاوز الموضع المعتاد فلا ضمان عليه فيما عطب من ذلك فإن تجاوز الموضع المعتاد ضمن.(الفتاوى الهندية،الفصل الأول الحد الفاصل بين الأجير،ج:4،ص:499)

الفصاد والبزاغ والحجام والختان لا يضمنون بسراية فعلهم إلى الهلاك إذا لم يجاوز الموضع المعتاد المعهود المأذون فيه وهي معروفة ولو شرط عليهم العمل السليم عن السراية بطل الشرط.(مجمع الضمانات،النوع العاشر ضمان الفصاد ومن بمعناه،ج:1،ص:47)


فتویٰ نمبر : 3043/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں