بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

دینی طلبہ کے نام وصول کردہ زکوۃ عصری تعلیم والے طلبہ پر خرچ کرنا


سوال

اگر کسی مدرسے میں دینی اور عصری تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ ہوں اور عصری تعلیم حاصل  کرنے والے طلبہ سے فیس نہیں لی جاتی  ہو۔توسوال یہ ہے کہ کیا دینی تعلیم  حاصل کرنے والے طلبہ کے نام پر جو زکوۃ اور صدقات آتے ہیں وہ زکوۃ اسی عصری تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو کھلانا  شرعاجائز ہے یا نہیں؟

جواب

            واضح رہے کہ  شرعا زکوۃ اور صدقات واجبہ کی ادائیگی میں تملیک شرط ہے تملیک کے بغیر زکوۃ اور صدقات واجبہ کی ادائیگی درست  نہیں ہوتی اور نہ ہی زکوۃ دہندگان کی  ذمہ داری فارغ ہوتی ہے ۔دوسری بات یہ ہے کہ شرعا مدرسہ کے ذمہ داران زکوۃ دہندگان کے نمائندے ہوتے ہیں لہذا اگر زکوۃدہندگان نے مستحقین   میں سے مخصوص مصارف  میں زکوۃ وغیرہ کے رقوم  خرچ کرنے کی تعیین کی تو شرعا ان مصارف کے علاوہ میں یہ رقوم خرچ نہیں کیے جا سکتے، لیکن  اگر دینے والوں کی طرف سے کسی خاص مستحق زکوۃ مصرف کی تعیین نہ ہوتو  زکوۃ کے تمام مصارف میں شرعی اصولوں کی پاسداری کے ساتھ  یہ رقوم خرچ کئے جا سکتے ہیں۔

            لہذا صورت مسئولہ میں:(1)اگر زکوۃ دہندگان نے ادارے کے ذمہ دار کو مستحق زکوۃ مصرف میں زکوۃ و صدقات کے رقوم خرچ کرنے کی مطلق اجازت دی ہواور یا ان کو متعلقہ ادارے کے متعلق صورت حال  کا پتہ ہو کہ دینی اور عصری تعلیم والے دونوں قسم کے  مستحق طلبہ پریہ رقوم خرچ کیے جاتے ہیں تو  اس صورت میں زکوۃ کے یہ رقوم  عصری تعلیم والے طلبہ پر بھی خرچ کئے جا سکتے ہیں ۔تاہم محض کھانا کھلانے سے زکوۃ کی رقوم میں  تملیک کی ذمہ داری پوری نہیں ہوتی ۔البتہ تملیک کرانے کے بعد یہ رقوم کھانا کھلانے میں خرچ کیے جا سکتے ہیں۔

(2)اور اگر زکوۃ دینے  والوں نے صرف دینی طلبہ کے نام  زکوۃ و صدقات  کے رقوم دیے ہوں  تو اس صورت میں  تملیک کے ساتھ یہ رقوم انہی طلبہ پر خرچ کرنا ضروری ہوگا۔

 

وَأَمَّا رُكْنُ الزَّكَاةِ  فَرُكْنُ الزَّكَاةِ هو إخْرَاجُ جُزْءٍ من النِّصَابِ إلَى اللَّهِ تَعَالَى وَتَسْلِيمُ ذلك إلَيْهِ يَقْطَعُ الْمَالِكُ يَدَهُ عنه بِتَمْلِيكِهِ من الْفَقِيرِ وَتَسْلِيمِهِ إلَيْهِ۔(بدائع الصنائع،كتاب الزكوة،ج:2،ص:39)

وشرعا تمليك خرج الإباحة فلو أطعم يتيما ناويا الزكاة لا يجزيه إلا إذا دفع إليه المطعوم كما لو كساه بشرط أن يعقل القبض إلا إذا حكم عليه بنفقتهم(ردالمحتارعلی الدرالمختار،کتاب الزکوۃ،ج:2،ص:257)


فتویٰ نمبر : 9185/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں