بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

مسلمان کاقادیانیوں کے تعلق دارمسلمان سے تعلق رکھنا


سوال

  زید خود ایک غریب آدمی ہے لیکن اس  کی دوستی ایک ایسے شخص کے ساتھ ہے جو مسلمان ہے لیکن  اس کا ننھیال ماسوائے اس کی والدہ کے  کٹر قادیانی ہیں وہ زید کے ساتھ مالی تعاون بھی کرتا ہے  اس کے علاوہ    اس کی اپنی بھابھی جو کہ  کٹر قادیانی ہے اس کے ساتھ بہت اچھے تعلقات  ہیں  ۔ تو کیا زید کے لیےاس شخص کے  ساتھ تعلق روا رکھنے کے  ساتھ اس کا مالی تعاون قبول کر نا اور اس کے  بھائی کے بچے کی پیدائش پر  جو کہ قادیانی بیوی سے ہے  اس کو مبارک باد دینا  شرعا کیسا ہے؟

جواب

              واضح رہے کہ قادیانی جماعت  شریعت کی نظر میں  مرتد اور زندیق ہے ان کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات رکھنا شرعا جائز نہیں ،تاہم اگر کوئی مسلمان  قادیانیوں سے اچھے تعلقات  قائم رکھتا ہو تو اس کو خیر خواہی کے جذبے کے ساتھ  حکمت سے سمجھانا چاہیے تاکہ وہ باز آجائے البتہ اگر وہ سمجھانے کے باوجود اپنے عمل سے باز نہ آتا ہو تو اس سے قطع تعلق کرنا چاہیےعلاوہ ازیں مسلمان کا دوسرے مسلمان کے ساتھ    مالی تعاون کرنا باعث ثواب ہے ۔

            لہٰذا صورت مسئولہ میں  اگر زید کے دوست کا   اپنی قادیانی بھابھی  کے ساتھ  تعلقات ہو تو زید کے لیے اس سے قطع تعلق کرنا چاہیے اس کے علاوہ اگر مالی تعاون اس نیت سے کرتا ہو کہ وہ بھی  قادیانیوں کے ساتھ نرم گوشہ اختیار کرے تو ایسی صورت  میں  اس کا  مالی تعاون قبول کرنا جائز نہیں ہے اور اگر اس نیت سے نہ ہو تو  پھر مالی تعاون قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے،علاوہ ازیں  اس کےبھائی کے بچے کی پیدائش پر  اس کو مبارکباد دینا جائز نہیں ۔

 

قال اللہ تعالی:( وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ)(المائدۃ:2)

فیعم النہی کل ماھو من مقولۃ الظلم والمعاصی۔۔۔وعن ابن عباس رضی اللہ عنھما وأبى العالية:أنهما فسراالاثم بترك ما امرهم به وارتكاب ما نهاهم۔(روح المعانى في تفسير القرآن العظيم،ج:6،ص:57)

ومستحب:وهوالزيادةعلى ذالك ليواسي به فقيرا،او يجازي به قريبا،فإنه أفضل من التخلي لنفل العبادة۔(الفتاوى الهندية،كتاب الكراهية،في الكسب وهو انواع،ج:5،ص:403)

ثم إن الهجران الممنوع إنما هو كان لسبب دنيوي،أما إذا كان لسبب فسق المرء وعصيانه،فأكثرالعلماء على جوازه۔(تكملة فتح الملهم،باب تحريم الهجر فوق ثلاث بلا عذر شرعي۔ج:5،ص:355)


فتویٰ نمبر : 5082/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں