بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
نمازِ عشاءشفق احمرغائب ہونےکے بعد پڑھنااور نقشہ سے چند منٹ پہلے پڑھنا
سوال
1: اگر کسی مسجد میں عشاء کی نماز امام صاحب کے قول شفق ابیض کی بجائے صاحبین کے قول شفق احمر کے مطابق ادا کی جاتی ہو تو کیا وہ نمازیں ہوجاتی ہیں یا دوبارہ ادا کرنا ہوگی؟2: ہمارے ہاں ضلع بنوں کی مسجدوں میں دائمی نقشہ میں 15 جولائی 2022 کو مغرب کا وقت 7 بج کر 30 منٹ (7:30) لکھا گیا ہے جبکہ عشاء کا وقت 9 بج کر 6 منٹ (9:06) لکھا گیا ہے۔اب اگر کسی مسجد میں 9 بجے سے پہلے اذان دی گئ ہو اور نماز 9 بجے ادا کی گئی ہو تو کیا ایسی صورت میں مذکورہ نماز ادا ہوئی ہے یا دوبارہ ادا کرنا ہوگی؟
جواب
نماز عشاکا وقت شفق کے غروب ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے ، البتہ صاحبین کے نزدیک شفق احمر کے غائب ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے ، جبکہ امام ابو حنیفہ کے نزدیک نماز عشا کا وقت اس وقت شروع ہوتا ہے جب شفق ابیض غائب ہوجائے ۔فقہائے کرام کے نزدیک امام صاحب کا قول احوط اوراجح ہے ،البتہ اگر کسی نےصاحبین کے قول کے مطابق عشا کی نماز پڑھ لی تو یہ نماز بھی جائز ہوگی ۔
نیزاکثر محققین فقہاے کرام کے نزدیک شفق ابیض اس وقت غائب ہوتا ہے، جب سورج افق سے اٹھارہ درجے نیچے چلا جائے ، ان اٹھارہ درجوں کا مجموعی وقت موسم اور علاقہ کی تبدیلی سے مختلف ہوتا رہتا ہے اس لیے منٹوں میں اس کی مقدار متعین طور پر نہیں بتائی جاسکتی ،ائمہ مساجد اور عوام کو چاہیئے کہ مستند ماہرین صحیح اصولوں پر جو نقشے تیار کرتے ہیں اس نقشہ کے مطابق اذان اور جماعت کا وقت متعین کریں تاکہ نماز اور اذان کےوقت میں بے احتیاطی نہ ہوجائے ،کیونکہ وقت سے پہلے پڑھی گئی نماز اور اذان شرعاً مقبول نہیں۔
صورت مسئلہ میں سے پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر کسی مسجد میں عشاکی نماز صاحبین کے قول کے مطابق ادا کی گئی ہو تو یہ نماز ادا ہوگئی ہے اس لیے اعادہ ضروری نہیں ۔ البتہ آئندہ کے لیے عشا کی نماز امام صاحب کے قول کے مطابق ادا کرنی چاہیے، کیونکہ یہ قول زیادہ احتیاط پر مبنی ہے ۔
دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ دائمی نقشہ میں اگر کسی ضلع /جگہ میں عشاء کا وقت امام صاحب کے قول (شفق ابیض کے غروب) کے مطابق 9 بج کر 6 منٹ (9:06) لکھا گیا ہواور پھر اسی جگہ کی مسجد میں 9 بجے نماز پڑھی گئی ہو تو ایسی صورت میں یہ نماز وقت کےاعتبار سے صاحبین کے قول کے مطابق پڑھی گئی ہے،لہذا اس نماز کا اعادہ ضروری نہیں۔
ووقت المغرب منه إلى غيبوبة الشفق وهو الحمرة عندهما وبه يفتى. هكذا في شرح الوقاية وعند أبي حنيفة الشفق هو البياض الذي يلي الحمرة. هكذا في القدوري وقولهما أوسع للناس وقول أبي حنيفةرحمه الله أحوط؛ لأن الأصل في باب الصلاة أن لا يثبت فيها ركن ولا شرط إلا بما فيه يقين۔(الهندية، كتاب الصلاة، الفصل الثاني في فضيلة الأوقات، ج:1، ص:51)
في الاختيار الشفق البياض وهو مذهب أبي بكر الصديق ومعاذ بن جبل وعائشة رضي الله تعالى عنهم ظهر أنه لا يفتى ويعمل إلا بقول الإمام الأعظم ولا يعدل عنه إلى قولهماأوقول أحدهما أو غيرهما إلا لضرورة من ضعف دليل أو تعامل بخلافه كالمزارعة وإن صرح المشايخ بأن الفتوى على قولهما كما في هذه المسألة وفي السراج الوهاج فقولهما أوسع للناس وقول أبي حنيفة أحوط.(بحر الرائق شرح كنزالدقائق، وقت الصلاة الظهر، ج:1، ص:258)
فينبغي الاعتماد في أوقات الصلاة وفي القبلة، على ما ذكره العلماء الثقات في كتب المواقيت، وعلى ما وضعوه لها من الآلات كالربع والأسطرلاب فإنها إن لم تفد اليقين تفد غلبة الظن للعالم بها، وغلبة الظن كافية في ذلك.( ردالمحتار،كتاب الصلاة، مطلب في سترالعورة، ج:1، ص:431)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں