بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

شکونڑ کے کھانے کاحکم


سوال

کیا شکونڑکھانا حلال ہے یا حرام؟ تفصیل چاہیے۔

جواب

           قنفذ جس کو ہم پشتو میں شیشکی  کہتے ہیں،  یہ تیز کانٹوں والا جانور ہے اور لپٹ کر  گیند کی طرح ہو جاتا ہےاس کا کھانا حرام ہے، جب کہ  شکونڑ ایک دوسرا جانور ہے جس کو عربی میں نیص اور پشتو میں شکونڑ کہتے ہیں  اس  کی  شکل کچھ  حد تک خرگوش کے مشابہہ  ہوتی ہے  نیص اور قنفذ میں مندر جہ ذیل بنیادی فرق ہیں:

1۔قنفذ(شیشکی) کیڑے مکوڑے کھاتا ہے جب کہ نیص (شکونڑ)گھاس کھاتا ہے۔

2۔ قنفذ(شیشکی) حشرات الارض میں سے ہے جب کہ نیص(شکونڑ) ایسا نہیں ہے۔

3۔ان  دونوں کے رہن سہن  کا انداز الگ الگ ہے۔

4۔قنفذ (شیشکی) ذی ناب  ہے جب کہ نیص(شکونڑ) ذی ناب نہیں ہے۔

اہل لغت،حیوانات کے ماہرین اور جدید سائنسی تحقیقات اور محققین کی آراء کو سامنے رکھ کر یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ پشتو میں جس جانور کو  "شکونڑ"کہتے ہیں،وہ چونکہ صرف نباتات کھاتا ہے اس لئے اس کو قنفذ  قرار نہیں دیا جاسکتا،البتہ قنفذ کا  مصداق شیشکی ہے جو کہ حشرات الارض کھانے کی وجہ  سےخبائث میں  داخل ہو کر حرام ہے۔تا ہم چونکہ کانٹے دار ہونے میں کچھ حد تک دونوں شریک ہیں اس لیے  بعض حضرات  نے اس کو قنفذ قرار دے کر حرمت کا حکم لگایا ہے حالانکہ ہمارے تحقیق کے مطابق دونوں میں فرق ہے اور  قنفذ پر شکونڑ کا اطلاق درست نہیں اس لئے اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔

 

وكذلك ما ليس له دم سائل مثل الحية والوزغ وسام أبرص وجميع الحشرات وهوام الأرض من الفأر والقراد والقنافذ والضب واليربوع وابن عرس ونحوها، ولا خلاف في حرمة هذه الأشياء إلا في الضب فإنه حلال عند الشافعي.(بدائع الصنائع،فصل في المأكول و غيرب المأكول من الحيوانات،ج:5،ص:36)

وروى ابن عمر - رضي الله عنهما - سئل عن القنفذ فتلا قوله تعالى {قل لا أجد في ما أوحي إلي محرما على طاعم يطعمه} [الأنعام: 145] الآية فقال شيخ عنده سمعت أبا هريرة يقول «ذكر القنفذ عند النبي - صلى الله عليه وسلم فقال خبيث من الخبائث» .(البحر الرائق شرح كنز الدقائق، مسائل في الختان والتداوي والزينة، ج:8، ص:553)

قُنْفُذ [مفرد]: ج قَنافِذُ: (حن) حيوان لبون من آكلات الحشرات، يغطِّي جسمَه شوكٌ حادٌّ، يلتفُّ حول نفسه عند إحساسه بالخطر فيصيرُ كالكرة، وهو مولَع بالتهام الحيَّات التي لا يتأثَّر بسمِّها، يسرح في الليل وينام في النهار(معجم اللغة المعاصرة،ج:3،ص:1864)

 وقال ابن الأعرابي: من أسماء القنفذ الدلدل والشيهم والأزيب. الصحاح: الدلدل عظيمالقنافذ. ابن سيده: الدلدل ضرب من القنافذ له شوك طويل، وقيل:الدلدل شبه القنفذ وهي دابة تنتفض فترمي بشوك كالسهام، وفرق ما بينهما كفرق ما بين الفئرة والجرذان والبقر والجواميس والعراب والبخاتي. الليث: الدلدل شئ عظيم أعظم من القنفذ ذو شوك طوال. وفيحديث ابن أبي مرثد: فقالت عناق البغي: يا أهل الخيام هذا الدلدل الذي يحمل أسراركم، الدلدل: القنفذ، وقيل: ذكر القنافذ. قال: يحتمل أنها شبهته بالقنفذ لأنه اكثر ما يظهر بالليل ولأنه يخفي رأسه في جسده ما استطاع.(لسان العرب،ج:ص:496)


فتویٰ نمبر : 5046/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں