بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سال كے دوران فارغ كيے جانے والے مدرس كی تنخواه كا حکم


سوال

اگر مدرسے کا مہتمم مدرس کی کاردکردگی سے مطمئن نہ ہو تو ایسی صورت میں سال کے دوران مدرس کو تدریسی مصروفیات سے فارغ کیا جا سکتا ہے یا نہیں ؟ایسی صورت میں یہ مدرس پوری سال کی تنخواہ کا مستحق ہو گا یا صرف گزرے ہوئے ایام میں تدریسی خدمات سرانجام دینے کی تنخواہ کا مستحق ہو گا؟

جواب

            واضح رہے کہ عام طور پر مدارس دینیہ میں مہتمم اور مدرس کےمابین طے ہونا والاعقد عقدِمسانہہ ہوتا ہے جس میں  مدرس کو تدریسی   خدمات  سرانجام دینے کے لیےانتظامیہ کی جانب سے مقرر کردہ شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہوتا  ہے لہذا اگر مدرس ایسی کوتاہی کا مرتکب ہو جس کی وجہ سے انتظامیہ کے لیے عقد فسخ کرنا نا گزیر ہو توشرعاً ایسے عقد کو فسخ کیا جاسکتا ہے۔

           لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگر مدرسے کا مہتمم مدرس کی کاردکردگی سے مطمئن نہ ہو تو ایسی صورت میں سال کے دوران مدرس کو تدریسی مصروفیات سے فارغ کیا جا سکتا ہے البتہ عقد فسخ ہونے کے بعدمدرس صرف گزرے ہوئے ایام اور مہینوں  کی تنخواہ کا مستحق ہوگا ، بقیہ سال کی تنخواہ کا مستحق نہیں ہوگا  ،تاہم اگر مدرس میں ایسی کوتاہی نہ ہو تو پھر سال کے درمیان میں اس کو فارغ کرنا جائز نہیں ورنہ بصورت دیگر وہ بقیہ سال کی تنخواہ کا مستحق ہو گا۔

 

الأجر لا يملك بنفس العقد ولا يجب تسليمه به عندنا عينا كان أو دينا، كذا في الكافي۔۔۔۔۔ ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتأجيل أو باستيفاء المعقود عليه۔(الفتاوى الهندية،كتاب الإجارة، الباب الثاني متى تجب الأجرة وما يتعلق به من الملك وغيره،ج:4،ص:412)

في البزازية: استأجر عبدا للخدمة فمرض العبد، إن كان يعمل دون العمل الأول له خيار الرد۔۔۔۔۔۔ وفي الولوالجية: وكذا لو أبق فهو عذر أو كان سارقا؛ لأنها توجب نقصانا في الخدمة۔(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الإجارة،باب فسخ الإجارة،ج:9،ص:107،108)

إذا استأجر أستاذا ليعلمه هذا العمل في هذه السنة فمضى نصف السنة فلم يعلمه شيئا فللمستأجر أن يفسخ۔۔۔۔۔وفي التجريد لو آجر نفسه في عمل أو صناعة ثم بدا له أن يترك العمل لم يكن له ذلك، وإن كان ذلك العمل ليس من عمله وهو مما يعاب به كان له الفسخ كذا في الخلاصة۔(الفتاوى الهندية،كتاب الإجارة، الباب التاسع عشر في فسخ الإجارة بالعذرج:4،ص:299)

الإجارة تنقض بالأعذار عندنا۔(الفتاوى الهندية،كتاب الإجارة،الباب التاسع عشرفي فسخ الإجارةبالعذر،ج:4،ص:458)


فتویٰ نمبر : 3042/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں