بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 11/08/2026

دارالافتاء

 

قربانی نہ کرنے والوں کے لیے ذی الحجہ کے 10 دنوں میں بال ناخن وغیرہ کاٹنے کا حکم


سوال

عشرہ ذی الحجہ میں بال و ناخن نہ کاٹنے کا استحباب کیا صرف قربانی کرنے والوں کے لیے ہے یا  قربانی نہ کرنے والا بھی اس میں شامل ہے؟

جواب

           واضح رہے کہ شریعت مطھرہ نے جان کے فدیہ میں  جانور کی قربانی مقرر کردی ہے، نیز قربانی کے جانور کا ہر جزو قربانی کرنے والے کے جسم کے ہر جزو کا بدلہ متصور ہوتاہے ۔ لہٰذا مناسب معلوم ہواکہ قربانی اور نزولِ رحمت کے وقت انسانی جسم کا کوئی عضو و جزو  کم ہو کر اللہ تعالیٰ کی  رحمت  اور فیضان الٰہی کی برکات سے محروم نہ رہے،تاکہ اس کو مکمل فضیلت حاصل ہو اور وہ مکمل طور پر گناہوں سے پاک ہو ۔

           لہذا صورت مسئولہ میں جو شخص قربانی کاارادہ رکھتا ہوتواس کے لیےمستحب ہےکہ ذی الحجہ کے پہلے عشرہ (شروع کے دس دنوں) میں قربانی سے پہلےبال وناخن وغیرہ نہ کٹوائے، اور جو شخص غریب و فقیر ہے اور قربانی کاارادہ نہیں رکھتاہے تو اس کے لیےیہ مستحب نہیں ہے۔ تاہم قربانی کرنے والوں کے لیےیہ استحباب اس شرط کے ساتھ خاص ہے کہ زیرناف بال ، بغلوں کی صفائی اورناخن کاٹے ہوئےچالیس روز نہ گزرے ہوں، اگر چالیس روز گزرگئے ہیں تو امور مذکورہ کی صفائی واجب ہے۔

 

سمع ‌سعيد بن المسيب ، يحدث عن ‌أم سلمة : أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: « ‌إذا ‌دخلت ‌العشر ‌وأراد ‌أحدكم أن يضحي، فلا يمس من شعره وبشره شيئا»۔(صحيح مسلم، ‌‌كتاب الأضاحي، ‌‌باب نهي من دخل عليه عشر ذي الحجة۔۔۔ج:3، ص:1565)

وقال ابن عابدین: بعد نقل هذا الحديث: فهذا محمول على ‌الندب ‌دون ‌الوجوب بالإجماع۔ (رد المحتار على الدر المختار، ‌‌كتاب الصلاة، ‌‌باب الكسوف، ‌مطلب ‌في ‌إزالة ‌الشعر ‌والظفر ‌في ‌عشر ‌ذي ‌الحجة ، ج:2، ص:181)

(و) يستحب (‌حلق ‌عانته وتنظيف بدنه بالاغتسال في كل أسبوع مرة) والأفضل يوم الجمعة وجازفي كل خمسة عشرة وكره تركه وراء الأربعين مجتبى۔( رد المحتار على الدر المختار، ‌‌كتاب الحظر والإباحة، ‌‌فصل في البيع، ج:6، ص:406)

والأولى ‌أن ‌يقال: ‌المضحي ‌يرى ‌نفسه ‌مستوجبة للعقاب وهو القتل، ولم يؤذن فيه ففداها بالأضحية، وصار كل جزء منها فداء كل جزء منه، فلذلك نهي عن مس الشعر والبشر؛ لئلا يفقد من ذلك قسط ما عند تنزل الرحمة، وفيضان النور الإلهي، ليتم له الفضائل، ويتنزه عن النقائص۔ (مرقاة المفاتيح، كتاب الصلاة، باب في الأضحية، ج:3، ص:1081)


فتویٰ نمبر : 9203/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں