بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

آدمی پراپنے رشتہ داروں کا نفقہ


سوال

شرعا آدمی پر اپنے رشتہ داروں میں سے کس کا نفقہ واجب ہے؟

جواب

            واضح رہےکہ شریعت میں آدمی پر بیویوں کا نفقہ لازم ہے کیونکہ بیوی شوہر کی وجہ سے اس کے گھر میں محبوس ہوتی ہے اور اولاد اگر نابالغ ہوں یا بالغ ہوں لیکن معذور ہوں اور اپنے نفقہ کمانے سے عاجز ہوں تو ان کا نفقہ اپنے والد پر لازم ہے۔ان کے علاوہ  باقی رشتہ داروں کا نفقہ اس صورت میں آدمی پر لازم ہے جب  آدمی خود مالدار ہو اور اس کا ذی رحم محرم رشتہ دار نفقہ کمانے سے عاجز ہوتو اس کا نفقہ اس پرلازم ہے تاہم اگر یہ خود غریب ہو یا اس کا  ذی رحم محرم رشتہ دار خود نفقہ کمانے سے عاجز نہ ہو تو اس صورت میں اس کو نفقہ اس پرلازم نہیں۔

 

القرابة في الأصل نوعان: قرابة الولادة، وقرابة غير الولادة وقرابة غير الولادة ...ولا خلاف في وجوب النفقة في قرابة الولادة.(بدائع الصنائع،كتاب النفقة،فصل في نفقة الأقارب،ج:4،ص:30)

(فتجب للزوجة) بنكاح صحيح، فلو بان فساده أو بطلانه رجع بما أخذته من النفقة بحر (على زوجها) ؛ لأنها جزاء الاحتباس، وكل محبوس لمنفعة غيره يلزمه نفقته.(الدر المختار على صدر رد المحتار كتاب الطلاق،باب النفقة،ج:3،ص:572)

(و) تجب أيضا (لكل ذي رحم محرم صغير أو أنثى) مطلقا (ولو) كانت الأنثى (بالغة) صحيحة (أو) كان الذكر (بالغا) لكن (عاجزا) عن الكسب (بنحو زمانة)كعمى وعته وفلج... (فقيرا).(الدر المختار على صدر رد المحتار،كتاب الطلاق،باب النفقة،ج:3،ص:627)


فتویٰ نمبر : 6445/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں