بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

عکاشہ اور عکراش نام رکھنا


سوال

میں اپنے بیٹے کا نام عکاشہ یا عکراش رکھنا چاہتی ہوں۔ ان دونوں ناموں کا صحیح تلفظ اور معنی وضاحت سے بیان فرمائیں اور یہ بھی کہ کیا یہ نام رکھنا درست ہیں؟

جواب

              واضح رہے کہ ہر وہ نام جسے نبی کریمﷺ یاصحابہ کرامؓ نے استعمال کیا ہوچاہے وہ کوئی خاص معنی رکھتا ہو یا نہیں، صحابی کی نسبت سے اس کا استعمال درست ہے، مثلا زید صحابی کا نام ہے، لیکن اس کا کوئی خاص معنی نہیں نکلتا، البتہ جو نام انہوں نے نہیں رکھا ہوتو پھر اس میں معنی کا لحاظ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔

              صورت مسئولہ کے مطابق "عکراش" اور"عکاشہ" دونوں حضرات صحابہ کرامؓ کے ناموں میں سے ہے۔ ’’عِکراش ‘‘ (ع کے کسرہ اور ک کی سکون کے ساتھ) پڑھا جاتا ہے اور لغت کے اعتبار سے یہ لفظ ’’عکرش‘‘ سے مأخوذ ہے جو کہ ایک خاص قسم کی گھاس کو کہتے ہیں۔ اور’’عُکاشہ‘‘ (ع کے ضمہ اور ک کی فتح کے ساتھ پڑھا جاتا ہے) جس کا معنی ہےمکڑی کاجالا۔ یاد رہے کہ صحابہ کرامؓ  کے ناموں کی فضیلت کے لیے یہی کافی ہے کہ یہ صحابی رسول ﷺ کا نام ہے۔

 

عكراش بكسر ‌أوله ‌وسكون ‌الكاف ‌وآخره ‌معجمة، ابن ذؤيب بن حرقوص بن جعدة بن عمرو بن النزّال بن سبرة بن عبيد بن مقاعس بن عمرو بن كعب بن سعد بن زيد مناة بن تميم السعدي۔(الإصابة في تمييز الصحابة، ‌‌العين بعدها الكاف، ج:4، ص:442)

 ‌العكرش، ‌بالكسر: ‌نبات ‌من ‌الحمض، يشبه الثيل، ولكنه أشد خشونة۔( تاج العروس من جواهر القاموس ، فصل العين مع الشين، ج:17، ص:272)

‌عكاشة ‌بْن ‌محصن ‌بْن ‌حرثان ‌بْن ‌قيس ‌بْن ‌مرة ‌بْن ‌كَثِير بْن غنم بْن دودان بْن أسد بْن خزيمة الأسدي حليف بني عَبْد شمس، يكنى أبا محصن، كَانَ من سادات الصحابة وفضلائهم، هاجر إِلَى المدينة، وشهد بدرًا ۔( أسد الغابة في معرفة الصحابة، ‌‌باب العين والكاف، عكاشة بن محصن، ج:4، ص:64)

‌وعُكَّاشةُ ‌وعَكَّاشٌ: ‌أَسماء. ‌وعَكَاشُ، بِالْفَتْحِ: مَوْضِعٌ. وعُكَّاش، بِالتَّشْدِيدِ، اسْمُ ماءِ لَبَنِي نُمَير. وَيُقَالُ لِبَيْتِ الْعَنْكَبُوتِ: عُكَّاشةٌ؛ عَنْ أَبي عَمْرٍو. وعُكَّاشة بْنُ مِحْصن الأَسدي: مِنَ الصَّحَابَةِ، وَقَدْ يخفف ۔(لسان العرب، فصل العين المهملة، ج:6، ص:319)

حدثنا أبو اليمان۔۔۔ أن أبا هريرة رضي الله عنه قال:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: (يدخل الجنة من أمتي زمرة هي سبعون ألفا، تضيء وجوههم إضاءة القمر). فقام عكاشة بن محصن الأسدي، يرفع نمرة عليه، قال: ادع الله لي يا رسول الله أن يجعلني منهم، فقال: (اللهم اجعله منهم). ثم قام رجل من الأنصار فقال: يا رسول الله، ادع الله أن يجعلني منهم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (‌سبقك ‌عكاشة)۔(صحيح البخاري، كتاب اللباس، باب البرود والحبرة والشملة، ج:5، ص:2189)


فتویٰ نمبر : 5045/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں