بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

دو ماه كا حمل ساقط ہو جانے کے بعد خون آنا


سوال

ایک عورت جو کے حاملہ تھی تقریباً دو ماہ سے، اب اس کا حمل ساقط ہوا ہے اور پانچ دنوں سے خون آرہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ خون حیض کا ہے یا نفاس کا؟

جواب

               حمل خود بخود ساقط ہو یا ساقط کر دیا جائے، اگر ساقط شدہ حمل کے اعضا ہاتھ، پاؤں، کان اور ناک وغیرہ ظاہر ہو چکے ہوں جو کہ حمل ٹھہرنے  کے ایک سو بیس دن یعنی چار ماہ بعد ظاہر ہوتے ہیں  تو اس کے بعد آنے والا خون نفاس شمار ہوگااور اگر اعضا ظاہر نہ ہوچکے ہوں تو پھراگر یہ خون تین دن جاری رہےیا اس سے تجاوز کر جائے اور اس خون کےآنے سے پہلے پندرہ دن یا اس سے زیادہ طہر گزر چکا ہو تو پھر یہ حیض کا خون کا شمار ہوگا۔

             صورت مسؤلہ میں اس عورت کا حمل چونکہ چار ماہ سے کم تھا جس میں حمل کے اعضا ظاہر نہیں ہوئے ہوتے لہذا اس حمل کے ساقط ہونے کے بعد آنے والا خون جو کہ تین دن سے زیادہ ہے، حیض شمار ہوگا۔

 

(وسقط) مثلث السين: أي مسقوط (ظهر بعض خلقه كيد أو رجل) أو أصبع أو ظفر أو شعر، ولا يستبين خلقه إلا بعد مائة وعشرين يوما (ولد) حكما (فتصير) المرأة (به نفساء والأمة أم ولد ويحنث به) في تعليقه وتنقضي به العدة، فإن لم يظهر له شيءفليس بشيء، والمرئي حيض إن دام ثلاثا وتقدمه طهر تام وإلا استحاضة۔ (الدر المختار على صدر ردالمحتار، كتاب الطهارة، باب الحيض، ج:1، ص:500)


فتویٰ نمبر : 9187/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں