بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/08/2026

دارالافتاء

 

مزنیہ کی پھوپھی کی بیٹی سے زانی کا نکاح


سوال

زانی کا نکاح توبہ کے بعد مزنیہ کی پھوپھی کی بیٹی سے ہوا ہےجب کہ بیچ میں یہ زانی اپنے سالہ کے ساتھ یعنی اپنی بيوی کے بھائی کے ساتھ کالج کے زمانے میں بدفعلی یعنی لواطت کیا تھا ،کیامذکورہ دونوں وجوہات میں سے کسی وجہ سے صحت نکاح پر کوئی اثر پڑےگا یانہیں ،اسی طرح ان دونوں میں سے کسی وجہ سے حرمتِ مصاہرت ثابت ہوگی یا نہیں؟

جواب

             شریعت مطہرہ کی رو سےحرمت مصاہرت کی وجہ سےزانی اور مزنیہ پر ایک دوسرے کے اصول وفروع حرام ہوتے ہیں،اس کےعلاوہ دیگر رشتہ داروں کے ساتھ نکاح کرنا ایک دوسرے کے لیے جائز ہوتا ہے،نیز مرد کے ساتھ بدفعلی سے  حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوتی۔

           صورت مسؤلہ کے مطابق اگرایک شخص نے کسی عورت سے زنا کیا اور پھر اس مزنیہ کی پھوپھی کی بیٹی سے نکاح کیا تو شرعاًیہ نکاح جائز ہے،ایسا ہی نکاح سے پہلے یا بعد میں سالہ کے ساتھ  لواطت سے نکاح پر اثر نہیں پڑتا۔

 

(و) حرم أيضا بالصهرية  (و) أصل (ممسوسته بشهوة)۔۔۔ و (وفروعهن)۔ (الدرالمختارعلی صدر ردالمحتار، کتاب النکاح، الباب الثالث فی بیان المحرمات، ج:1، ص:274)

وفي الولوالجية: أتى رجل رجلا له أن يتزوج ابنته؛ لأن هذا الفعل لو كان في الإناث لا يوجب حرمة المصاهرة ففي الذكر أولی۔ (ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب النکاح، فصل فی المحرمات، ج:4، ص:111)


فتویٰ نمبر : 6440/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں