بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

بہن کو حصہ دیئے بغیرمشترکہ ترکہ میں تصرف کرنا


سوال

اگر کسی  بھائی نے بہن کو میراث میں حصہ نہیں دیا ہو،بلکہ خود ترکہ میں تصرف کرکے کاروبار شروع کیا ہونیزنفع بھی کمایا ہو،اور بعد میں بہن اپنا حصہ مانگ لے تو کیا تقسیم میراث کے وقت کا حصہ ان کو دیا جائے  گا یا اب جتنا حصہ کاروبار میں ان کا بنتا ہے اس کے مطابق حصہ دینا لازمی ہوگا؟

 

جواب

              واضح رہے کہ مشترکہ مال میراث میں جب کوئی وارث اپنی طرف سے تصرف کرے اور دیگر ورثا کی طرف سے اسے نہ صریحی اجازت حاصل ہو اور نہ اشارۃ، تو اس صورت میں اس کے لیے تصرف جائز نہیں لہذا مال مشترک سے حاصل شدہ نفع فقراء میں تقسیم کرے۔لیکن دیگر ورثا کی طرف سے اگر تصرف کی اجازت ہو تو یہ اجازت اگرشراکت کی بنیاد پر ہو  تب حاصل شدہ نفع میں سب شریک ہوں گےاور اگرقرض کےطور پر ہو  تب نفع سارا کا سارا تصرف کرنے والے کا ہی شمار ہوگا۔

               صورت مسئولہ میں اگر بہن کا حصہ ان کی اجازت سے کاروبار میں لگایا ہو تو اگر بہن کی اجازت بطور قرض تھی تب نفع میں ان کا حصہ نہ ہو گا اور اگر اجازت بطور کاروبار میں شرکت کی تھی تو نفع میں بھی ان کا حصہ ہوگا لیکن اگر بہن کا حصہ اس طرح خرچ کیا ہو کہ ان کی طرف سے نہ صراحتا اجازت تھی اور نہ دلالۃ توناحق تصرف کی بنیاد پران کے حصہ سے حاصل شدہ نفع کو فقراء پر صدقہ کیا جائے گا۔

 

إذا أخذ أحد الورثة مبلغاً من الدراهم من التركة قبل القسمة بدون إذن الآخرين و عمل فيه و خسر فتكون الخسارة عائدة إليه كما أنه إذا ربح فلا يسوغ لبقية الورثة طلب حصة منه) لأنه إما غاصب أو مستودع، وكل استريح فيما في يده لنفسه، يكون ربحه له لا للمالك، لكن يملكه ملكا خبيثا سبيله التصدق على الفقراء. (شرح المجلة، المادة:1090، ج:4، ص: 29۔ 30)


فتویٰ نمبر : 3271/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں