بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

دودھ پلانے والے جانور کی قربانی


سوال

اگرکوئی جانور عنقریب بچہ جن لے اور وہ ابھی بچہ کو دودھ پلاتی ہو توشرعا ایسے جانور کی قربانی جائزہےیانہیں؟

جواب

            واضح رہے کہ  جانورکی قربانی کے لیے جانور کا عیوب سے پاک ہونا  ضروری ہے اور جانور کا بچہ جننا شرعا کوئی عیب نہیں ہے  لہذا ایسے جانور کی قربانی کرنا جائز ہے ۔

            صورت مسئولہ میں ایسے جانور کی قربانی جائز ہےجوبچہ کو دودھ پلاتی ہو،بشرطیکہ اس جانور میں قربانی سے مانع کوئی دوسرا عیب نہ ہو۔

 

ويجوز المجبوب العاجز عن الجماع والتي بها السعال۔۔۔۔۔ والتي لا ينزل لها لبن من غير علة والتي لها ولد۔ (الفتاوی الھندیة،كتاب الأضحية،الباب الخامس في بيان محل إقامة الواجب،ج:3؛ص:244)

عن مغيرة بن حذف العبسي، قال: كنا مع علي رضي الله عنه بالرحبة , فجاء رجل من همدان يسوق بقرة معها ولدها , فقال: إني اشتريتها أضحي بها وإنها ولدت. قال: فلا تشرب من لبنها إلا فضلا عن ولدها , فإذا كان يوم النحر فانحرها هي وولدها عن سبعة۔ (سنن الكبری للبیھقی،باب ماجاء في ولد الأضحية ولبنها،ج:9،ص:485،رقم الحديث:19192)

ولدت الأضحية ولدا قبل الذبح يذبح الولد معها.(الدرالمختارعلی صدرردالمحتار،کتاب الأضحية،ج:6،ص:322)


فتویٰ نمبر : 9196/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں